سوال

میرے دوبھائیوں کی شادی ایک ہی ماموں کی دو بیٹیوں سے ہوئی تھی۔میرے بڑے بھائی شادی کے کچھ عرصے کے بعدسعودی عرب چلے گئے ۔کچھ عرصے کے بعد ان کی بیوی ان کی اجازت سےاپنے میکے چلی گئی،وہ اپنے والدین کو پٹیاں پڑھاتی رہی ۔اور کچھ عرصے بعد انہوں نے آکر ہمارے گھر سے بلا وجہ بتلائے اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان اٹھا لیا،چنانچہ کچھ عرصے کے بعدوہ خود بلا وجہ میرے بڑے بھائی یعنی اپنے شوہر سے موبائل فون پر طلاق کامطالبہ کرنے لگی حالانکہ بھائی نان نفقہ وغیرہ سب بھیجتے رہتے تھے۔چنانچہ اس کے گھر والے یعنی میرے ماموں اندر ہی اندر اپنی بیٹی کی پاسداری کرتے رہےجبکہ بڑے بھائی نے ماموں سے خود بھی بات کی اور میری بہنوں نے نیز میری چھوٹی بھابھی نے بھی،جو کہ ان کی بیٹی ہے ،انہوں نے کہا کہ لڑکی نہیں مان رہی ،ہم کچھ نہیں کر سکتے۔چنانچہ اندر ہی اندرانہوں نے عدالت میں جا کر خلع دائر کیااور عدالت نے ہماری رضا مندی کے بغیر یعنی شوہر کی رضا مندی کے بغیرنکا ح کو فسخ کر دیا ۔جبکہ بڑے بھائی نےاب تک طلاق نہیں دی ۔ان لوگوں نے اپنی بیٹی کا نکاح آگے کر دیاہے محض عدالتی طلاق کی بنیاد پر،اس کی میرے بھائی سے بھی ایک بیٹی ہےاور جہاں دوسری جگہ نکاح ہوا ہے وہاں پر بھی ایک بیٹی ہو چکی ہے۔اب دوسرے ما موں کی بیٹی کی شادی ہے جو کہ مذکورہ عدالتی خلع میں اپنے بھائی کے ساتھ رہا ہےاور اب بھی ان کے ساتھ ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے،اس ماموں کی بیٹی کی شادی ہےاور انہوں نے ہمیں بھی مدعو کیا ہے۔اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ہم ان لوگوں سے رشتہ داری کے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور شادی میں جا سکتے ہیں یا نہیں۔شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا فرماتی ہے ؟

جواب

الجواب حامدًاومصلّیا

سوال میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں توصورت مسئولہ کا جواب یہ ہے
بلا کسی شرعی سبب کے ،شوہر کی مرضی کے بغیر،عدالت کاطلاق کا فیصلہ کرنا شرعا غیر معتبر ہے ؛لہذا،صورت مسئولہ میں انہوں نے نکاح پر نکاح کر کے بہت بڑے سخت حرام کام اورگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ کرنا اور دونوں میں جدائی کرنا واجب ہے،نہ کرنے کی صورت میں تمام مسلمانوں کو ان سے تعلقات ختم کرنے چاہیں۔
آپ کے جو ماموں ان کی حمایت کر رہے ہیں اگر وہ مسئلے سے آگاہ ہونے اور سمجھانے کے با وجود بھی ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں اور ان سے تعلقات ختم نہ کریں تو اس ماموں سے بھی تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔ولأن النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءۃ وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً با التراضی بالخلع کالبیع
وفی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
نکاح معتدۃ الغیر یعتبر من الأنکحۃ الفاسدۃ المتفق علی فسادہا ویجب التفریق بینہما.وہذا با تفاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/182،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(17،دار الحدیث)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(14/125،علوم اسلامیة)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(5/356،دار العلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(42/166،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/07/1443/2022/02/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:144

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔