الجواب باسم ملہم الصواب
عام حالات میں تو مرتہن مرہونہ شیئ کو راہن کی اجازت کے بغیر فرو خت نہیں کر سکتا بلکہ راہن کی اجازت ضروری ہے اور رہن رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معا ملہ پختہ ہو جاتاہے اور مرتہن كو اپناحق وصول ہونےکا اطمینان حاصل ہو جا تا ہے لیکن اگر راہن انکا ری ہو جا ئے،نہ توحق کی ادائیگی کرے اور نہ مرہونہ شیئ کو فروخت کر نےکی اجازت دے توپھر مرتہن ،حا کم یاقا ضی کے حکم سےفروخت کرسکتا ہے۔
لما فی بدا ئع الصنا ئع:(5/212،رشیدیہ)
“ولیس لہ [مرتہن]ان یبیع الرہن بغیر اذن الراہن لان الثا بت لہ لیس الا ملک الحبس.”
وفی الشا مية:(6/502 ،سعید)
“یجبر علی بیعہ فاذا امتنع با عہ القا ضی او امینہ للمر تہن واو فاہ حقہ والعھدۃ علی الراہن.”
وکذافی مجمع الا نھر:(4/294،المنار)
وکذافی شر ح المجلة:(3/188،رشیدية)
وکذافی الہند ية :(5/468،رشیدية)
وکذا فی الفتا وی التا تا ر خا نية:18/569،فا رو قیہ)
وكذا فی المحیط البرھانی:(18/91،دار احیا ء)
وکذافی المبسوط:(21/63،دارالمعر فة)
وکذا فی مجمو عة الفتاوی :(4/183، رشیدية)
وکذا فی الفقہ الاسلا می وادلة:(6/4309رشیدية)
واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :159