سوال

ايك شخص دوسرےكواپناپراناٹريكٹربیچتاہےاورکہتاہےکہ چھ ماہ بعدتم مجھےاسی کمپنی کانیاٹریکٹرلےکر دےدینا۔یہ معاملہ شرعادرست ہے

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ معاملہ شرعادرست نہیں،البتہ اس طرح کامعاملہ اگرنقدہوتوجائزہے

لما فی التنویر: ( 7/،422 ،423،رشیدیہ)
(وان وجداحدھما)ای القدروحدہ اوالجنس(حل الفضل وحرم النساء)ولومع التساوی حتی لوباع عبدالعبدالی اجل لم یجزلوجودالجنسیۃ.
وفی خلاصةالفتاوی: (3 /102، رشیديه)
“وان وجداحدھماوعدم الآخراماالکیل اوالوزن حل التفاضل وحرم النساءاماالجنس بانفرادہ حل التفاضل وحرم النساءعندنا.
وکذافی الهداية: ( 3/83، رحمانيه)
وکذا فی مجمع الانهر: (3 /121،المنار )
وکذافی الفقه الحنفی: (4 /234،الطارق )
وکذا فی البحرالرائق: ( 6/213، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: ( 5/3712، رشیدیہ)
وکذا فی التا تارخانية: ( 8/348، فاروقيه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1440 ،19/3/2019
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :13

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔