سوال

مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:(1) ایک آ د می کسی دوسر ےشخص سے جس کی آ مد نی با لکل حلا ل ہے ، قر ض لیتا ہے اور پھر اس قرض کی اد ا ئیگی اپنی حرام کمائی سے کر تا ہے تو کیا ایسا کر نا در ست ہے؟(2) قر ض خو اہ کے لئے اس حر ا م ما ل سے قر ض و ا پس لینا جا ئز ہے؟(3) کیاقرض لینے وا لے کے لئے لیا ہو ا قر ض حلا ل ہوگا ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حلال مال سے قرض لیا ہوا حرام مال سے لوٹا ناجائز نہیں بلکہ اس حرام مال کو تو صدقہ کر ناچاہیے۔(2) قر ض خوا ہ کو اگر معلو م ہو کہ ما ل حرا م ہے تو اس کے لئے لینا مکرو ہ ہے اور اگر معلو م نہ ہو تو لینا جا ئز ہے۔(3) قر ض لینے وا لے کے لئے لیا ہو اما ل حلا ل ہے۔

لما فی الھند یة :(5/367،رشید یة)
و لو کا ن الد ین لمسلم علی مسلم فبا ع المسلم خمرا و أخذ ثمنھا و قضا ہ صا حب الد ین کر ہ لہ أن یقبض ذ لک من د ینہ
وفی بد ائع الصنا ئع :(4/308،رشید یة)
مسلم با ع خمرا و أخذ ثمنھاوعلیہ د ین یکر ہ لصا حب الد ین أ ن یأ خذ ہ منہ …ووجہ الفر ق: أن بیع الخمر من المسلم باطل لأ نھا لیست بمتقو مۃ فی حق المسلم فلا یملک ثمنھا فبقی علی حکم ملک المشتر ی فلا یصح قضا ء الد ین بہ
وفی رد المحتا ر :(5/99،سعید)
فان علم عین الحر ام لا یحل لہ و یتصد ق بہ بنیۃصاحبہ و ان کا ن ما لا مختلطا مجتمعا من الحر ام و لا یعلم أ ربا بہ و لا شیاً منہ بعینہ حل لہ حکما ، و لأ حسن د یا نۃ التنز ہ عنہ
وکذافی البزا زیة:(5/125، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الا سلا می واد لتہ:(4/2687، رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(4/352، رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(8/369،رشید یة)
وکذا فی فقہ البیوع :(2/1006،معارف القرآن )
وکذا فی التا تار خا نیة:(18/251،فا رو قیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:146

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔