الجواب حامداً ومصلیاً
اگرجیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط پائی جائیں تو جمعہ پڑھنا جائز ہے ،اگر جیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں تو جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہے ۔(2) ظہر کی نماز ضروری تھی( دیہات میں) لیکن جمعہ پڑھ لیا تو جمعہ جائز نہیں ، بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہے۔(3) جہاں جمعہ ادا ہو تا ہو وہاں جمعہ پڑھنا ضروی ہے ،بلا وجہ جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا درست نہیں، البتہ اگر کسی نے جمعہ چھوڑ کر ظہر پڑھ لی تو فر ض ذمہ سے سا قط ہو جائیگا۔
لما فی ملتقی الا بحر :(1/252،المنار)
ومن لا جمعۃ علیہ ان ادا ھا أجزتہ عن فرض الوقت …و من لا عذر لہ لو صلی الظہر قبلھا جاز مع الکرھۃ
وفی المحیط البر ھانی :(2/395،داراحیاء تراث)
قال فی ”السیر الکبیر“: و الأسیر من المسلیمن فی ایدی أھل الحرب ھم لہ قاھرون ، أن أقاموا بہ فی موضع یرید ون أن یقیموا بہ خمسۃ عشر یوما ، فعلیہ أن یکمل الصلاۃ ، وان کان الأسیر لا یریدون أن یقیم معھم (وان کان الاسیر یرید ان یقیم) فی موضع خمسۃ عشر یوما ، فأخرجوہ من ذلک المو ضع یریدون مسیرۃ ثلاثۃ أیام قصر الصلاۃ،لأن الأسیر مقھور مغلوب فی ایدیھم ، وکان سفر ہ واقا متہ بھم کالعبد مع مولاہ، و القا ئد مع الأعمی ، والتلمیذ مع الا ستاذ
وکذافی الھند یة:(1/148،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/582، رشید یة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/266، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1332، رشید یة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(4/222،علوم اسلامیة)
وکذا فی القدوری:(36،الخلیل)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:105