الجواب حامداً ومصلیاً
دخولِ مکہ کے لیے عام حالات میں آفاقی کا میقات سے احرام باندھنا واجب ہے، خواہ کسی بھی نیت سے داخل ہو رہا ہو، اور احرام کا وجوب، حرم کی سرزمین کے معظم و مکرم اور شرافت والی ہونے کی وجہ سے ہے، اور حرم کی تعظیم سب پر واجب ہے، خواہ وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو یا عمرہ کا یا تجارت وغیرہ کا۔ الّا یہ کہ کوئی ڈرائیور یا مزدور وغیرہ ہو جسے روز یا ہفتے میں اکثر دن کام کی غرض سے حدودِ حرم میں جانا پڑتا ہو تو اس کے لیے احرام نہ باندھنے کی بھی گنجائش ہے۔
لما فی بدائع الصنائع: ( 2/373، رشیدیہ )
“وكذلك لو أراد بمجاوزة هذه المواقيت دخول مكة لا يجوز له أن يجاوزها إلا محرما، سواء أراد بدخول مكة النسك من الحج أو العمرة أو التجارة أو حاجة أخرى عندنا…ولنا ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ألا إن مكة حرام منذ خلقها الله تعالى لم تحل لأحد قبلي، ولا تحل لأحد بعدي، وإنما أحلت لي ساعة من نهار، ثم عادت حراما إلى يوم القيامة. الحديث.
ولأن هذه بقعة شريفة لها قدر وخطر عند الله تعالى، فالدخول فيها يقتضي التزام عبادة إظهارا لشرفها على سائر البقاع.”
وفی الھدایة : ( 1/253، المیزان )
” ومن كان داخل الميقات له أن يدخل مكة بغير إحرام لحاجته لأنه يكثر دخوله مكة وفي إيجاب الإحرام في كل مرة حرج بين.”
وفی المغنی لابن قدامة : ( 3/253، شاملہ )
“ولو أوجبنا الإحرام على كل من يتكرر دخوله، أفضى إلى أن يكون جميع زمانه محرما، فسقط للحرج.”
و کذا فی المصنف ابن أبی شیبة: (3/294، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی فتح القدیر شرح الھدایة: ( 2/430، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/54، حقانیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 89، فاروقیہ )
حجِ تمتع کرنے والا ایامِ حج میں حج کا احرام حدودِ حرم میں جہاں سے چاہے باندھ سکتا ہے، البتہ مسجدِ حرام سے باندھنا افضل ہے۔
لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2282، رشیدیہ )
فاذا کان یوم الترویۃ ( الثامن من ذی الحجۃ ) أحرم بالحج من المسجد الحرام ندبا، و یشترط أن یحرم من الحرم لان المتمتع فی معنی المکی، و میقات المکی فی الحج: الحرم، کما تقدم فی المواقیت
وکذافی الھدایة: ( 1/283، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/468، الطارق )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/178، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 216، ادارة القرآن )
مکہ والے حج کا احرام، حرم کی حدود کے اندر سے باندھیں، اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھیں، البتہ عمرہ کا احرام مسجدِ عائشہ سے باندھنا زیادہ بہتر ہے۔ اور جو لوگ میقات اور حرم کی حدود کے درمیان رہتے ہیں ان کا حج و عمرہ کے لیے میقات ”حِل“ ہے۔
لما فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )
ومن كان داخل الميقات فوقته الحِل معناه الحِل الذي بين المواقيت وبين الحرم لأنه يجوز إحرامه من دويرة أهله وما وراء الميقات إلى الحرم مكان واحد.
ومن كان بمكة فوقته في الحج الحرم وفي العمرة الحل لأن النبي عليه الصلاة والسلام أمر أصحابه رضي الله عنهم أن يحرموا بالحج من جوف مكة وأمر أخا عائشة رضي الله عنهما أن يعمرها من التنعيم وهو في الحِل
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/460، الطارق )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/2127، 2126، رشیدیہ )
آفاقی ایک عمرہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور عمرہ کا احرام حرم کی حدود سے باہر ”حِل“ سے باندھے گا، البتہ مقامِ تنعیم ( مسجدِ عائشہ ) سے احرام باندھنا زیادہ بہتر ہے۔
لما فی غنیة الناسک: ( 201، ادارة القرآن )
“أن السنۃ فی العمرۃ أن تفعل داخلا الی مکۃ لا خارجا بان یخرج المقیم بمکۃ الی الحِل، فیعتمر کما یفعل الیوم، و ان لم یکن ممنوعا و افضل مواقیتھا لمن بمکۃ التنعیم، ثم الجعرانۃ.”
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2126، رشیدیہ )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: ( 2/151، علوم اسلامیہ )
غیر آفاقی کا اگر اسی سال حج کا ارادہ ہو تو اَشہُرِ حج میں اس کے لیے ایک عمرہ کرنا بھی مکروہ ہے اور اگر اسی سال حج کا ارادہ نہ ہوتومتعددعمرے کر سکتا ہے اور عمرہ کا احرام ”حِل“ سے باندھےگا۔
لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/467، الطارق )
“و کذلک تکرہ العمرۃ لاھل مکۃ و من یقیم داخل المواقیت فی اشھر الحج، لان الغالب علیھم ان یحجوا فی سنتھم فیکونوا متمتعین، و ھم عن التمتع ممنوعون لما سیاتی، و الا فلا مانع أن یعتمر المکی فی أشھر الحج اذا لم یحج فی تلک السنۃ.”
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 87، فاروقیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 511، فاروقیہ )
وکذا فی غنیة الناسک: ( 199، ادارة القرآن )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/577، حقانیہ )
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/166، قدیمی کتب خانہ )
و کذا فی الھدایة: ( 1/254، المیزان )
غیر مسلم کو حدودِ حرم سے گزرنے اور کسی ضرورت سے وہاں جانے کی اجازت تو ہے مگر حدودِ حرم میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔
لما فی الموسوعة الفقہیة: ( 17/188،189، علوم اسلامیہ )
اتفق الفقهاء على أنه لا يجوز لغير المسلم السكنى والإقامة في الحرم….. واختلفوا في اجتياز الكافر الحرم بصفة مؤقتة، فذهب الشافعية والحنابلة وهو قول عند المالكية: إلى منع دخول الكفار إلى الحرم مطلقا….. وقال الحنفية: لا يمنع الذمي من دخول الحرم، ولا يتوقف جواز دخوله على إذن مسلم ولو كان المسجد الحرام.
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 3/ 2392، رشیدیہ )
وکذا فی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری: ( 541، فاروقیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/421، الطارق )
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440، 2019/02/28
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :37