سوال

موبائل فون میں میسج کے ذریعے جو سلام بھیجا جاتا ہے ، اس کا جواب دینا واجب ہے یا نہیں ؟ اگر واجب ہے تو تحریری طور پر بھیجنا ضروری ہے یا زبانی کہہ لینا کافی ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

موبائل پر میسج کے ذریعے بھیجے جانے والے سلام کا زبان سے جواب دینا واجب ہے ، تحریری طور پر جواب دینا ضروری نہیں ، البتہ اگر میسج کا جواب دینا ہو تو سلام بھی لکھ کر بھیج دے ۔

لما فی شرح النووی علی ھامش الصحیح لمسلم : ( 220 / 2 ، رحمانیہ )
“و بشرط کون الرد علی الفور و لو اتاہ سلام من غائب مع رسول او فی ورقۃ وجب الرد علی الفور “
و فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
المتبادر من ھذا ان المراد رد سلام الکتاب لا رد الکتاب ، لکن فی الجامع الصغیر للسیوطی : رد جواب الکتاب حق کرد السلام 0 قال شارحہ المناوی : ای : اذا کتب لک رجل بالسلام فی کتاب و وصل الیک وجب علیک الرد باللفظ او بالمراسلۃ و بہ صرح جمع شافعیۃ : و ھو مذھب ابن عباس 0
و کذا فی صحیح البخاری : ( 244/1 ، رحمانیہ )
وکذا فی الصحیح لمسلم:(221 / 2 ،رحمانیة)۔
و کذا فی تکملة فتح الملھم : ( 246 , 245 / 4 ، مکتبہ دارالعلوم )
و کذا فی رد المحتار مع الدر المختار : ( 685 / 9 ، رشیدیہ )
و کذا فی الموسوعة الفقھیة : ( 160 / 25 ، علوم اسلامیہ )
و کذا فی الاذکار للنووی : ( 323 ، دار البشائر الاسلامیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1440 ، 2019/01/19

جلد نمبر :17 فتوی نمبر :105

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔