الجواب حامداً ومصلیاً
عورت کے لیے شریعت مطہرہ میں پردہ کو فرض قرار دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى …“ اور دوسری جگہ ارشاد ہے: ” قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ…“ ان آیات میں مردوں اور عورتوں کو اپنی نظروں کی حفاظت کرنے اور نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور نامحرم کو دیکھنا، ان سے گفتگو کرنا اور معاملات کرنا، زنا کے قریب لے جانے کا بڑا ذریعہ ہیں، اور نامحرم کو دیکھنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ عورت کا ایسی جگہ ملازمت کرنا جہاں اس کا اجنبی مردوں سے اختلاط ہوتا ہو، ناجائز اور حرام ہے۔ اور مذکورہ صورت میں عورتوں کا اس جیسی ملازمت کرنے میں یہ تمام مفاسد پائے جاتے ہیں، لہذا ایسی جگہ پر عورتوں کا ملازمت کرنا درست نہیں، اگر کوئی سخت مجبوری ہو تو کوئی ایسا کسبِ معاش اختیار کیا جائے جہاں مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہوتا ہو۔ اور گاڑی مالکان کو چاہیے کہ عورتوں کے بجائے مردوں کو ملازمت پر رکھیں، تاکہ ان مذکورہ مفاسد سے اور اْس وعید سے بچا جا سکے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمائی: ” لَعَنَ اللهُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ …“ کہ بد نظری کرنے اور کرانے والے پر اللہ تعالی لعنت فرماتے ہیں، لہذا اس صورتِ حال کے پیشِ نظر عورتوں کو بس ہوسٹس بنانا ناجائز اور حرام کام ہے، کیونکہ اس میں بے پردگی، بد نظری اور مردوں و عورتوں کا اختلاط پایا جاتا ہے۔
لما فی القرآن المجید: ( الأحزاب:33 )
” وقرن فی بیوتکن و لا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الأولی.”
و فی القرآن المجید: ( النور:30،31 )
” قل للمؤمنین یغضوا من أبصارھم و یحفظوا فروجھم ذلک أزکی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون و قل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن و یحفظن فروجھن و لا یبدین زینتھن.”
وفی السنن الکبری: ( 7/159، دار الکتب العلمیہ )
“و عن الحسن رضی اللہ عنہ مرسلا قال : بلغنی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال: لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ.”
وفی الموسوعة الفقھیة: ( 40/343، مکتبہ علوم اسلامیہ )
” يحرم نظر الرجل بغير عذر شرعي إلى وجه المرأة الحرة الأجنبية وكفيها كسائر أعضائها سواء أخاف الفتنة من النظر باتفاق الشافعية أم لم يخف ذلك.”
وفی الشامیة: ( 5/228، رشیدیہ )
قال في الهداية: وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش وقد يمتد إلى أن يهجم الليل ولا كذلك المطلقة لأن النفقة دارة عليها من مال زوجها. قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها
وکذافی الصحیح للبخاری: ( 2/450، رحمانیہ )
وکذا فی النتف فی الفتاوی: ( 338،سعید )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 4/39، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: ( 2/230، رشیدیہ)
واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر182