سوال

موجودہ دور کے مروجہ جہیز کا کیا حکم ہے،جودلہن کی طرف سے لازم سمجھا جاتا ہےیہ جہیز اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

جواب

الجواب حامدا ومصلیا

لڑکی کے والدین اپنی خوشی سے جو سامان چاہیں دے سکتے ہیں،لیکن اس میں کسی قسم کی ریا نہ ہواور لڑکے والوں کی طرف سے بھی یر قسم کا مطالبہ غیر اخلاقی ہو گااورلڑکی کی ضروریات کاسامان مہیا کرناشوہر کی ذمہ داری ہے۔جہیز کی موجودہ رسم قابل اصلاح ہے۔

لما فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:(9/242،دار الکتب العلمیة)
وعن انس رضی اللہ عنہ،انّ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ،اتی ابابکررضی اللہ عنہ فقال:یاابابکرمایمنعک ان تزوج فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لایزوجنی(بعداسطر)فانطلق عمررضی اللہ عنہ الی علِی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،قال:مایمنعک من فاطمۃ؟فقال:اخشی ان لایزوجنی،قال:فان لم یزوجک فمن یزوج؟وانت اقرب خلق اللہ الیہ،فانطلق علی رضی اللہ عنہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یکن لہ مثل عائشۃولامثل حفصۃ،قال:فلقی رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فقال:انی اریدان اتزوج فاطمۃقال:فافعل قال ما عندی الادرعی الحطمیۃ قال:فاجمع ماقدرت علیہ وائتنی بہ قال:فاتنی باثنتی عشرۃاوقیۃاربعمائۃوثمانین،فاتی بھا رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فزوجہ فاطمۃ رضی اللہ عنھا،فقبض ثلاث قبضات،فدفعھاالی ام ایمن،فقال اجعلنی منھا قبضۃ فی الطیب احسبہ قال:والباقی فیما یصلح المراۃ من المتاع،فلما فرغت من الجھازوادخلتھم بیتا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6825،رشیدیہ)
فراواان الجھاز واجب علی الزوج،کما یجب علیہ النفقۃوکسوۃ المراۃوالمھرالمدفوع لیس فی مقابلۃ الجھاز وانماھو عطاءونحلۃ کما سماہ اللہ فی کتابہ اوھو فی مقابلۃ حل التمتع بھا،فھوحق علی الزوج لزوجتہ
وفی البحر الرائق:(3/325،رشیدیہ)
لوجھز بنتہ ثم ادعی ان مادفعہ لھا ؑعاریۃوقالت تملیکااوقال الزوج ذلک بعد موتھا لیرث منہ وقال الاب عاریۃ،ففی فتح القدیر والتجنیس الذخیرۃالمختارللفتوی ان القول للزوج ولھااذاکان العرف مستمراان الاب یدفع مثلہ جھازالاعاریۃ کمافی دیارناوان کان مشترکا فالقول قول الاب
وفی تنویر الابصار:(4/307،رشیدیہ)
ولو دفعت فی تجھیزھا لابنتھااشیاءمن امتعۃالاب بحضرتہ وعلمہ وکان ساکتاوزفت الی الزوج فلیس للاب ان یستردذلک من ابنتۃ لجریان العرف بہ وکذا لوانفقت الام فی جھازھاماھومعتادوالاب ساکت لاتضمن الام
وفی المبسوط:(5/214،دارالمعرفة)
وفی المحیط البرھانی:(4/227،ادارۃالقران)
وفی الخانیة:(1/401،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/301،فاروقیہ)
وفی خلاصةالفتاوی:(2/45،رشیدیہ)
وفی الھندیہ:(1/328،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،2،1443/2021،9،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:58

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔