سوال

جنبی آدمی کامسجد میں جانا یا تشبہ بالمصلی اختیار کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداومصلیا

جنبی آدمی کا مسجد میں داخل ہوناجائز نہیں ہے اور تشبہ بالمصلی کا حکم فاقدالطہورین کے لئے ہے۔

لمافی الھندیة:(1/38،رشیدیہ)
انہ یحرم علیھا وعلی الجنب الدخول فی المسجد سواء کان للجلوس أوللعبور
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/42،رحمانیہ)
عن جسرۃ بنت دجاجۃ قالت سمعت عائشۃ تقول جاء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ووجوہ بیوت اصحابہ شارعۃ فی المسجدفقال وجّھوا ھذہ البیوت عن المسجد ثم دخل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولم یضع للقوم شیئا رجاء ان تنزل فیھم رخصۃ فخرج الیھم فقال وجّھو ھذہ البیوت عن المسجد فانی لااحل المسجد لحائض ولا جنب
وکذافی الھدایة:(1/63،رشیدیہ)
ولاتدخل المسجد وکذا الجنب لقولہ علیہ وسلم فانی لااُحل المسجد لحائض ولاجنب
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(47،البشری)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/53،حرمین شریفین)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/607،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/175،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/235،ادارةالقراٰن)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/473،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
1،5،1443/2021،12،6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:12

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔