سوال

میرے تایا ابو ہمارے گاؤں کے نمبردار تھے۔ان کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب نمبرداری کے امیدوار ہیں اور وہاں کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ وہ نمبرداری سنبھال لیں۔اس نمبرداری کے ساتھ تقریباً12ایکڑ زمین بھی ان کو ملے گی۔والد صاحب کے لیے اس نمبرداری اور زمین کا لینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

عوامی خدمت کے جتنے بھی شعبے ہیں ان کو اس نیت و جذبہ سے لینا کہ اس کے ذریعہ سے مخلوقِ خدا کی خدمت کروں اور اس منصب کے واسطے سے مخلوقِ خدا کو خدا کے ساتھ جوڑوں نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔
نمبرداری بلاشبہ ایسے ہی مناصب میں سے ہے جس کے ذریعہ مخلوقِ خدا کی دنیوی اور دینی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے،لہٰذا اس جذبے سے سرشار اور اس منصب کے اہلیت کے حامل کے لیے اسے قبول کرنا بلاشبہ جائز بلکہ کارِ ثواب ہوگا اور اس منصب کے بدلے میں ملنے والی اراضی اور دیگر مراعات حاصل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(یوسف:55)
قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ.
وفی الجامع لاحکام القرآن:(9/216،دار احیاء التراث العربی بیروت)
قوله تعالی:(اجعلني على خزائن الأرض)…….ودلت الآية أيضا على جواز أن يخطب الإنسان عملا يكون له أهلا، فإن قيل: فقد روى مسلم عن عبد الرحمن بن سمرة قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:”يا عبد الرحمن لا تسأل الإمارة فإنك إن أعطيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أعطيتها عن غير مسألة أعنت عليها”……..فالجواب: أولا- أن يوسف عليه السلام إنما طلب الولاية لأنه علم أنه لا أحد يقوم مقامه في العدل والإصلاح وتوصيل الفقراء إلى حقوقهم فرأى أن ذلك فرض متعين عليه فإنه لم يكن هناك غيره، وهكذا الحكم اليوم، لو علم إنسان من نفسه أنه يقوم بالحق في القضاء أو الحسبة ولم يكن هناك من يصلح ولا يقوم مقامه لتعين ذلك عليه، ووجب أن يتولاها ويسأل ذلك، ويخبر بصفاته التي يستحقها به من العلم والكفاية وغير ذلك، كما قال يوسف عليه السلام، فأما لو كان هناك من يقوم بها ويصلح لها وعلم بذلك فالأولى ألا يطلب، لقوله عليه السلام لعبد الرحمن:” لا تسأل الإمارة
وفی اعلاء السنن:(15/47،اداة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی)
ان طلب الامارۃ والقضاء من حیث الامارۃ والحکومۃ لحب المال والریاسۃ والشرف منہی عنہ مطلقا سواء کان بالقلب وحدہ او باللسان ایضا لکونہ من ناحیۃ الدنیا لا الدین ،واما طلبھا لا من حیث الامارۃ ،بل ارادۃ الاصلاح بین الناس واقامۃ العدل فیہم والقضاء بالحق لما فی العدل من الاجر الجزیل فلیس بمنہی عنہ لا بالقلب ولا باللسان
وکذافیه ایضاً:(15/76، اداة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی)
وکذافی کنز العمال:(5/324، رحمانیة لاھور)
وکذافی صحیح البخاری:(2/602،رحمانیة لاھور)
وکذافی تفسیر المظھری:(4/36،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1442/2021/2/23
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:91

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔