سوال

یورپین ممالک میں ہوٹل پر، جہاں حلال و حرام سب پکتا ہے،وہاں ملازمت کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مغربی ممالک کے ہوٹلوں میں اگر غیر شرعی امور سر انجام دینے پڑتے ہوں،مثلاًخنزیر،مردار اور شراب وغیرہ بنانا یا پیش کرنا،توان ہوٹلوں میں ملازمت جائز نہیں ہے،ورنہ جائز ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/429،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وقوله تعالى:(ولا تعاونوا على الإثم والعدوان)نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى
وفی جامع الترمذی:(1/374،رحمانیة لاھور)
عن أنس بن مالك قال: ” لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له
وکذافی تفسیر المظھری:(2/268،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/418،امیر حمزہ افغانستان)
وکذافی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر:(2/7،دار المعرفة بیروت)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1442/2021/3/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:190

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔