الجواب حامداً ومصلیاً
بینک کا سونے کی حفاظت کی اجرت لینا درست نہیں ،کیو نکہ سونا بینک کے پاس رہن کے طور پر رکھا گیا ہے اور اس کی حفاظت بینک کے ذمہ ہے ۔
لمافی الفقہ الحنفی :(4/460،الطارق)
و اجرة بيت الرهن و حافظه و مأوي الغنم علي المرتهن ….فلو شرط للمرتھن اجرۃ علی حفظ الرھن لا یستحق شیئا لان الحفظ واجب علیہ
وفی البحر الرائق: ( 8/44 ، رشیدیہ)
و اجرۃ بیت الحفظ و حافظہ علی المرتھن.
وکذافی الھندیة: ( 5/455 ، رشیدیہ)
وکذا فی تبيين الحقائق: ( 6/68 ، امدادیہ)
وکذافی التاتارخانية: ( 18/546 ، فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/276، المنار)
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440،2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:73