سوال

میں نے ایک ڈرائیور کو فون کیا کہ فلان جگہ جانا ہے کتنا کرایہ لو گے،اس نے کہاکہ بارات ہے؟ میں نے کہا :جی۔ اس نے کہا جتنا کرایہ ایسی گاڑی یعنی چھوٹی گاڑی جو بارات کے ساتھ جائے گی وہ لےگی مجھے بھی اتنا دے دینا ۔ اب بارات میں اس جیسی اور دو گاڑیاں وہاں گئیں،ایک کا کرایہ 1200،اور دوسری کا 1300تھا ،اب سوال یہ ہےکہ اس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟ اگر درست ہے تو مذکورہ صورت میں اس کو کتنا کرایہ دیا جائے گا؟ جب کہ ڈرائیور 1300 مانگتاہے۔

جواب

الجواب با سم ملھم الصواب

صورت مذکورہ میں یہ عقد فاسد ہو جائے گا،اور اس جیسی گاڑیاں بارات کی صورت میں اتنی مسافت کا جتنا کرایہ لیتی ہیں اس میں سے جومتوسط کرایہ ہو گا وہ دیا جائے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(11/328،داراحیاءتراث)
وکذلک اذا تکاری دابۃ بمثل ما یتکاری بہ اصحابہ، کانت الاجارۃ فاسدۃ،قالوا:وھذا اذا لم یکن مایتکاری اصحابہ مثل ھذہ الدابۃ معلوما، بل کان مختلفا، بان کان ذلک بعض اصحابہ یکری مثل ھذہ الدابۃ بالعشرۃ وبعضھم یکری باقل من ذلک وبعضھم باکثر من ذلک،فعلیہ وسط من ذلک یرید بہ ان اجر مثل ھذہ الدابۃ یختلف باختلاف الاحوال، قد یکون عشرۃوقدیکون اکثر من عشر ۃ،وقدیکون اقل من عشرۃ، فعلیہ الوسط من ذلک نظرا من الجانبین،ومراعاۃ لکلا الطرفین.
وفی المبسوط للسرخسی:(15/181،دارالمعرفة)
وان تکاری بمثل ما یکاری بہ اصحابہ او بمثل مایتکاری بہ الناس فعلیہ اجر مثلھا لان المسمی مجھول فالناس یتفاوتون فی ذلک، فمن بین مسامح ومستقص
وکذا فی الھندية:(4/442،رشیدية) وکذا فی التاتارخانية:(15/108،فاروقية
وکذا فی الدرالمختار:(6/5،سعید) وکذا فی الولوالجية:(3/349ِ،الحرمین شریفین)
وکذا فی تکملةالبحرالرائق:(7/530،رشیدية) وکذا فی المدونة الکبری:3/481، دارالکتب )
وکذا فی تبیین الحقائق:(5/121،امدایة) وکذا فی الھدایة:(3/291،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/6/1440، 2019-2-20
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :4

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔