سوال

ایک شخص نے رخصتی سے پہلے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی، اور نکاح کے وقت اس نے مکمل مہر ادا کر دیا تھا،اب اس کو آدھا مہر واپس لینے کا اختیار اور حق ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

جی !یہ شخص آدھا مہر واپس لے سکتا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/164،داراحیاءتراث)
ولو قبضت الصداق ووھبتہ من اجنبی ثم الاجنبی وھبہ من الزوج، ثم طلقھا قبل الدخول بھا، یرجع علیھا بنصف المھر.
وفی بدائع الصنائع:(2/594،رشیدية)
وان کان قبضتہ، فان کان دراھم او دنانیر معینۃ او غیر معینۃ او کان مکیلا او موزونا فی الذمۃ فقبضتہ وہو قائم فی یدھا فطلقھا فعلیھا رد نصف المقبوض.
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(6/66،دارالمعرفة)
وکذا فی تفسیر القر طبی:(3/205،داراحیاءتراث)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/104،سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6804،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/304،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/253،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/509،المنار)
وکذا فی شرح العینی:(1/212،ادارۃالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :5

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔