سوال

میں کہ ایک شوروم والا کہتاہے کہ گاڑی مجھ سے خریدو،انشورنس فری کوئی ادائیگی نہیں کرنی ہوگی ۔اگر آپ قسطوں پر لیتے ہیں تو ایک مرتبہ 6000روپے ادا کرنے ہوں گے ،اس کے بعد آپ کی گاڑی انشورنس پہ ہو جائے گی ،تو کیا ایسا معاملہ کرنا درست ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ انشورنس سود اور جوَّا سے مرکب ہے ،یہ دونوں بدترین گناہ ہیں ۔لہذا سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں میں سےپہلی میں چونکہ خریدار براہ راست خود ملوث نہیں اس لیے فی نفسہ یہ معاملہ بیع تو درست ہے مگر شوروم کا مالک ان دو گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ضرور گناہ گار ہوگا، البتہ دوسری صورت میں چونکہ دونوں فریق ملوث ہیں اس لیے دونوں گناہ گار ہوں گے۔

لما فی قولہ تعالی فی سورۃ البقرۃ: (278)
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ⸳”
و فی قولہ تعالی فی سورۃ المائدۃ: (90)
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ⸳”
وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/25،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریۃ:(3/117،رشیدیۃ)
وکذا فی التنویر والشامیۃ:(7/417الی419،دارالمعرفۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3418و3763، رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(9/186،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/539،مکتبۃ معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440
2/2/2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر:112

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔