سوال

نمازمیں آدمی کے دل میں جو خیالات آتے ہیں اور بسا اوقات آدمی دل میں کوئی بات کرتا ہے زبان پر اس بات کو نہیں لاتا تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

محض خیالات آنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لمافی الصحیح لمسلم:(1/104،رحمانیة)
عن أبی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺان اللہ تجاوزلأمتی ما حدثت بہ انفسھا مالم یتکلموا أو یعملوابہ
وفی الموسوعةالفقھیة:(43/148،علوم اسلامیة)
إذاغلب الوسواس علی اکثرالصلوۃ لا یبطلھا لأن الخشوع سنۃ،والصلوۃ لاتبطل بترک سنۃ
وفی الفقہ الحنفی:(1/246،الطارق)
ویشترط لفساد الصلوۃ بالکلام أن یکون الکلام مسموعاًللمتکلم،وألا لا یعد کلاماً
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/194،رشیدیة)
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(1/417،ایچ ایم سعید)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(1/781،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/242،فاروقیة)
وفی صحیح البخاری:(606،دارالفکر،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔