سوال

نمازی کی جیب میں اگر خون کی تھیلی ہو تو اس صورت میں اس کی نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟یا نماز سے پہلے خون کی تھیلی کو جیب سے باہر نکال کر رکھنا ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز نہیں ہوگی،تھیلی کو باہر رکھنا ضروری ہے۔

لما فی الفتاویٰ العالکیریہ:(1/62،رشیدیہ)
رجل صلیٰ وفی کمہ قارورۃ فیھا بول لاتجوز الصلاۃ سواء کانت ممتلئۃ او لم تکن ،لان ھذا لیس فی مظانہ ومعدنہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/735،رشیدیہ)
بخلاف مالو حمل قارورۃ فیھا بول فلاتجوز صلاتہ،لانہ فی غیر معدنہ
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/354،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/465،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/92،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/190،رشیدیہ)
وکذافی الحیط البرھانی:(2/280،داراحیاءتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/15
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:45

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔