سوال

ایک آدمی کا مرض الموت میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز نہیں ،مگر فدیہ کی وصیت کرسکتا ہے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/125،رشیدیہ)
سئل الحسن بن علی عن الفدیۃ عن الصلوات فی مرض الموت ھل یجوز؟فقال :لا، وسئل حمیر الوبری ویوسف بن محمد عن الشیخ الفانی ھل تجب علیہ الفدیۃ عن الصلوات ؟کما تجب علیہ من الصوم وھو حیّ؟فقال:لا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1153،رشیدیہ)
ولایصح للمرء فی حال حیاتہ ان یفدی عن صلاتہ فی مرضہ،فلا فدیۃ فی الصلاۃ حال الحیاۃ بخلاف الصوم فانہ یجوزبل تجب الفدیۃ عنہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/459،فاروقیہ)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(2/646،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1443/2022/4/9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:102

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔