سوال

نماز جمعہ سے پہلے چار سنتیں کسی صحیح حدیث سے ثابت ہیں یا نہیں ؟ اگر ثابت ہیں تو حوالہ درکار ہے۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز جمعہ سے پہلے کی چار سنتیں متعدد روایات اور آثار سے ثا بت ہیں ، جن کا مجموعہ “حسن ” کے درجہ کو پہنچ جاتاہے ، اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول وعمل سے بھی ان چار سنتوں کا ثبوت ملتا ہے۔

لما فی سنن ابن ماجہ:( 79،قدیمی )
“عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا لا یفصل فی شئ منھن “
وکذا فی مجمع الزوائد: (2/354،دارلکتب العلمیہ )
“عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا و بعدھا اربعا لا یفصل بینھن”
وکذا فی المسند الجامع:( 8/449،دارالجیل بیروت)
“عن عطیۃ العوفی ، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یر کع قبل الجمعۃ اربعا لا یفصل فی شئ منھن “
وکذا فی شرح معانی الآثار :(1/209،رحمانیہ)
عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما انہ کان یصلی قبل الجمعۃ اربعا لایفصل بینھن بسلام ثم بعد الجمعۃ رکعتین ثم اربعا”
وکذا فی جامع الترمذی: (1/230،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیرللطبرانی:(6/86،کتب العلمیہ)
وکذا فی نیل الاوطار:(3/318،دارالباز مکہ)
وکذا فی مصنف عبد الرزاق:(3/247،المکتب الاسلامی)
وکذا فی آثار السنن :(1/302،امدادیہ)
وکذا فی الدرایہ: (1/181،المیزان)
وکذا فی اعلاء السنن :(7/9،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی نصب الرایہ: (2/215،قدیمی)
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (1/463،کتب العلمیہ)
وکذا فی تحفةالاحوذی:(3/79،قدیمی)
وکذا فی معارف السنن :(4/414،ایچ ایم سعید )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-1-2019،1440-5-8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:98

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔