الجواب باسم ملھم الصواب
شریعت میں قصاص معاف کرنے کا اختیار صرف اولیاء کو حاصل ہے، ہاں اگر فیصل یا قاضی تر غیب دے کر مقتول کے اولیاء کو قصاص کی معافی پر راضی کر لیں، توبھی درست ہے، لیکن اولیاء کی رضامندی کے بغیر بذات خود قاضی اور صدر وغیرہ کو معافی کا کوئی اختیار نہیں ، البتہ جس مقتول کا کوئی وارث نہ ہو تو قاضی کو قصاص لینےکا یا صلح کرنے کی صورت میں دیت لینے کا اختیار ہوگا۔
لما فی المحیط البرھانی :(20 / 109 ، احیا ء تراث العربی )
فمن لا ولی لہ فی دارالاسلام ……ولو ارادالامام ان یصالح فی ھٰذہ الصورۃ فلہ ذالک ، لان الصلح حصل ممن یملک الاستیفاء ، وھو انفع فی حق جماعۃ المسلمین من الاستیفاء ولو اراد ان یعفوعن القصاص لیس لہ ذٰلک ، لما فیہ من ابطال حق جماعۃ المسلمین بغیر عوض
وفی بدائع الصنائع :(6 / 291 ، رشیدیہ)
“وللامام ان یصالح علی الدیۃ الا انہ لایملک العفو لان القصاص حق المسلمین بدلیل ان میراثہ لھم وانما الامام نائب عنھم فی الاقامۃ وفی العفو اسقاط حقھم اصلا وراسا وھٰذالا یجوز”
وکذا فی البحر الرائق: (9 / 27 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7 / 5691 ، رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ ( 12 / 120 ، رشیدیہ )
وکذا فی فتح القدیر:(10 / 224 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدرالمختار : ( 10 / 175 ، دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ :(6 / 7 ، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (3 / 327 ، الطارق )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : ( 4 / 258 ، رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27 /4/ 1440 ، 2019/1/5
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:64