الجواب باسم ملھم الصواب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت شریفہ تینوں سے انگلیوں سے کھانا تناول فرمانے کی تھی،اگر چہ بعض روایات میں پانچ انگلیوں سے کھانا بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن انگلیاں چاٹنے کا تذکرہ صرف تین انگلیوں کا ہی ملتا ہے، یعنی بڑی انگلی ،پھر شہادت والی ور پھر انگو ٹھا، البتہ بقیہ انگلیوں کو چاٹنے کا طریقہ نہ مل سکا، لہذاان کو کسی بھی طرح چاٹ سکتے ہیں کیوں کہ رویات میں ہاتھ چاٹنے کا ذکر بھی موجود ہے۔
لما فی تکملۃ فتح الملہم:(4/23،دارالعلوم کراچی)
عن کعب بن عجرۃرضی اللہ عنہ قال:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کل باصابعہ الثلاث بالابھام، والتی تلیھا،ویلعق السطیٰ ثم تلیھا ثم الابھام
و فی الترغیب ولتر ہیب :(3/105،رشیدیہ)
“عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اذا اکل احدکم فلیلعق اصابعہ، فانہ لا یدری فی ایتھن البرکۃ”
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/528،قدیمی)
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح:(8/8،التجاریہ)
وکذا فی شر ح الطیبی: (8/146،الکتب العلمیہ)
وکذا فی بذل المجہود: ( 16/96،قدیمی)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/19،العلمیہ)
وکذا فی ابن ماجہ:(368،رحمانیہ)
وکذا فی المسند الجامع :(10/539،دارالجیل )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25-3-2019،1440-7-17
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:81