الجواب حامداًومصلیاً
“نُہاد”(نون کے پیش کے ساتھ) کامعنی ہےمقداراور” نِہاد” (نون کے زیر کےساتھ) کامعنی ہے’اصل،بنیاد،خصلت، عادت)
معنی کے اعتبار سےیہ دونوں لفظ، نام رکھنے کے لئے مناسب نہیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ حضرات انبیاءکرام علیھم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بزرگان دین رحمھم اللہ کے نام پر یا اچھے اور با مقصد معنی والے نام رکھے جائیں۔
لمافی فرہنگ آصفیہ:(4/3308،فیصل)
” نِہاد :(اسم مؤنث )اصل،بنیاد، خلقت، سیرت۔ ”
وکذا فی المنجد:(841،الشرقیہ،بیروت)
وکذافی لغات فارسی:(522،عمر،لاھور)
وکذافی الشامیة:(9/689،دارالمعرفہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،5،1443-2021،12،25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:78