سوال

ہم اپنے والدین کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، آج سے پندرہ سال پہلے میری والدہ نے اپنی ساری زمین اور مکان ہم دونوں بھائیوں کے قانونا نام لگوا دیا، اس کی وجہ سے میری والدہ اور والد کے درمیان کافی عرصہ سے علیحدگی چل رہی تھی، میرے والد ہم سے الگ رہتے تھے اور میری والدہ کو طلاق بھی نہیں دی تھی، اب والدہ کو اپنی بیماری میں یہ ڈر تھا کہ اس جائیداد میں سے ان کی وفات کے بعد کوئی حصہ قانونا یا شرعا چلا نہ جائے، لیکن اللہ تعالی نے والدہ کو صحت کاملہ سے نوازا، وہ مکمل صحت یاب ہو گئیں، زمین اور مکان والدہ نے بدستورہم دونوں بھائیوں کے نام ہی رہنے دیا، جس پر بہنوں نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، لیکن آج پندرہ سال بعد بہنیں کہہ رہی ہیں کہ اس جائیداد میں سے ہمیں بھی حصہ دو، جبکہ والدہ ابھی حیات ہیں اور والدہ بھی کہہ رہی ہیں کہ بیٹیوں اور والدہ کاحصہ دے دو ، جبکہ ساری جائیداد پندرہ سال سے قانونا ہمارے نام چلی آرہی ہے، مکمل زمین دس ایکڑ اور مکان دس مرلے کا ہے۔ اب علماءحضرات اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، شرعا اس کی تقسیم اب کیا ہو گی؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں والدہ نے اپنی زندگی میں ساری جائیداد بیٹوں کو ہبہ کی اور قانونا ہبہ مکمل بھی ہو گیا، لہذا والدہ اور بہنوں کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ہے، البتہ اخلاقی اعتبار سے بیٹوں کو چاہیے کہ اپنی والدہ اور بہنوں کو اس جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔

لمافی القرآن المجید:(الرحمٰن :60)
” ھل جزاء الحسان الا الاحسان. “
وفی الخانیة علی ھامش الہندیہ:(3/279،رشیدیہ)
” رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء و یکون آثما فیما صنع.”
وفیہ ایضا :(3/272،رشیدیہ)
“لا یرجع فی الھبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء والامھات وان علو ا و الاولاد وان سفلوا اولاد البنین واولاد البنات فی ذلک سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
اتفق الائمۃ علی ان الھبۃ تصح بالایجاب والقبول و القبض…. و علی ان تخصیص بعض الاولاد بالھبۃ مکروہ، و کذا تفضیل بعضھم علی بعض
وکذافی البحر الرائق:(7/500،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/696،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(14/460،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:165

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔