الجواب حامداًومصلیاً
صورت مسؤلہ میں والدہ نے اپنی زندگی میں ساری جائیداد بیٹوں کو ہبہ کی اور قانونا ہبہ مکمل بھی ہو گیا، لہذا والدہ اور بہنوں کا مطالبہ کرنا تو درست نہیں ہے، البتہ اخلاقی اعتبار سے بیٹوں کو چاہیے کہ اپنی والدہ اور بہنوں کو اس جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔
لمافی القرآن المجید:(الرحمٰن :60)
” ھل جزاء الحسان الا الاحسان. “
وفی الخانیة علی ھامش الہندیہ:(3/279،رشیدیہ)
” رجل وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز فی القضاء و یکون آثما فیما صنع.”
وفیہ ایضا :(3/272،رشیدیہ)
“لا یرجع فی الھبۃ من المحارم بالقرابۃ کالآباء والامھات وان علو ا و الاولاد وان سفلوا اولاد البنین واولاد البنات فی ذلک سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
اتفق الائمۃ علی ان الھبۃ تصح بالایجاب والقبول و القبض…. و علی ان تخصیص بعض الاولاد بالھبۃ مکروہ، و کذا تفضیل بعضھم علی بعض
وکذافی البحر الرائق:(7/500،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/696،ایچ۔ایم۔سعید)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،بشری)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(14/460،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443-2021/12/8
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:165