الجواب حامدا ومصلیا
خریدوفروخت کی یہ صورت منڈیوں میں رائج اورمعروف ہےاوربیچنےوالا اور خریداردونوں اس طرح معاملہ کرنےپرمتفق اورراضی ہوتےہیں لہذایہ معاملہ جائزہے۔
لمافی دررالحکام شرح مجلةالحکام:(1/46،المکتبةالعربیة)
“والحاصل ان استعمال الناس غیرمخالف للشرع وللنص الفقھاءیعدحجۃ.”
وکذافی شرح المجلة:(1/101،رشیدیة)
“المعروف بین التجارکالمشروط بینھم…فمایقع بین التجارمن المعاملات التجاریةاوبین غیرھم من العقودوالمعاملات التی ھی من نوع التجاریةینصرف عندالاطلاق الی العرف والعادة…..ولایتوھم من ھذہ المادۃقصرالعمل بالعرف فی الامور التجاریةعلی مایجری بین التجارفقط،بل المرادان کل عمل ھو من نوع التجارۃاذاسکت فیہ عن قید،فالمرجع فی ذلک العرف الجاری بین التجار․”
وکذافی اصول الافتاءوآدابہ:(262،مکتبةمعارف القرآن)
وکذافی رسائل ابن عابدین:(2/116،محمودیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2022-02-14/12-07-1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:13