سوال

کوہ پیما جو پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیوں پر ریکارڈ بنانے کے لیے چڑھتے ہیں ، اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو یہ موت خودکشی متصور ہوگی ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ لوگ جہاں اپنے فن (کوہ پیمائی) کے ماہر ہوتے ہیں وہاں اسباب سے پوری طرح لیس شریک ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد صحیح سلامت واپس آجاتے ہیں ۔ لہذا شرعی طور پر ایسی موت کو خودکشی نہیں کہا جاسکتا ، تاہم دینی و دنیاوی ہر دو لحاظ سے حقیقی نفع سے خالی کام میں اپنی جا ن خطرہ میں ڈالنا حماقت سے کم نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالبقرة/آیة،195)
وانفقوا فی سبیل اللہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین
وفی الفقہ الاسلامی:(4/2662،رشیدیہ)
لایخلو کل لھو غیر نافع من الکراھۃ ، لما فیہ تضییع الوقت والانشغال عن ذکر اللہ
وفی مشکوة المصابیح:(2/427،رحمانیہ)
عن علی بن الحسین قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ رواہ مالک واحمد
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(8/585،التجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدرالمختار:(9/576،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(1/361،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(2/212،سعید)
وکذافی فتح الباری:(3/291،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:11

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔