الجواب حامداً ومصلیاً
یہ لوگ جہاں اپنے فن (کوہ پیمائی) کے ماہر ہوتے ہیں وہاں اسباب سے پوری طرح لیس شریک ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد صحیح سلامت واپس آجاتے ہیں ۔ لہذا شرعی طور پر ایسی موت کو خودکشی نہیں کہا جاسکتا ، تاہم دینی و دنیاوی ہر دو لحاظ سے حقیقی نفع سے خالی کام میں اپنی جا ن خطرہ میں ڈالنا حماقت سے کم نہیں ۔
لما فی القرآن الکریم:(سورةالبقرة/آیة،195)
وانفقوا فی سبیل اللہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین
وفی الفقہ الاسلامی:(4/2662،رشیدیہ)
لایخلو کل لھو غیر نافع من الکراھۃ ، لما فیہ تضییع الوقت والانشغال عن ذکر اللہ
وفی مشکوة المصابیح:(2/427،رحمانیہ)
عن علی بن الحسین قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ رواہ مالک واحمد
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(8/585،التجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدرالمختار:(9/576،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(1/361،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(2/212،سعید)
وکذافی فتح الباری:(3/291،قدیمی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:11