سوال

والدین کا ماتھا چومنا شرک کے زمرہ میں آتا ہے یا سعادت ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کا ماتھا چومنا نہ صرف جائز ہے ، بلکہ باعث فضیلت ہے۔

لما فی شعب الایمان:(6/187،بیروت)
عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قبل بین عینی امہ کان لہ سترا من النار
وفی التاتارخانیة:(18/257،فاروقیہ)
وقد رخص ابو یوسف التقبیل علی غیر الفم…… للولد علی راس والدیہ
وفی ردالمحتار:(6/380،سعید)
قولہ واما علی وجہ البر فجائز عند الکل) قال الامام العینی بعد کلام فعلم اباحۃ تقبیل الید والرجل والراس والکشح کما علم من الاحادیث المتقدمۃ اباحتھا علی الجبھۃ
وکذافی فیض القدیر:(6/249،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/367،سعید)
وکذافی الھندیة:(5/369،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/384،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/25،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:91

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔