سوال

کہ شریعت نے نو مو لود بچے کے نام رکھنےکا حق کس کو دیا ہے ؟

جواب

الجواب بعون الملک الوھاب

شر یعت نے نو مو لود بچےکانا م رکھنے کا حق با پ کو دیا ہے،باپ کی رضا مند ی کے بغیرکو ئی اوربچے کانام نہیں رکھ سکتا ۔

لما فی مجمع الزوائد:(8/51،دارالکتب العلمیة)
“عن ابی ھر یرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ان من حق الولد علی الوالدان یحسن اسمہ ،وان یحسن ادبہ۔”
وفی شعب الا یما ن للبیہقی:(6/401،دارالکتب العمیة)
“من ولد لہ ولد فلیحسن اسمہ وادبہ فا ذا بلغ فلیزوجہ فان بلغ ولم یزوجہ فا صاب اثمافا انمااثمہ علی ابیہ۔”
و کذا فی المو سو عة الفقہیة:(6/401، دارالکتب العلمیة)
وکذافی الفقہ ا لاسلامی وادلتہ:(4/2752، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(6/336،ایچ ایم سعید)
وکذا فی دلا ئل النبوۃللبیہقی :(2/380،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی المستد رک علی الصحیحین :(5/201، قدیمی)
وکذا فی عون المعبود :(13/143، قدیمی)
وکذا فی تحفة الاحوذی:(8/139،قد یمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
30 / 4 / 1440 ،2019/ 1/ 7
جلد نمبر:17جلد نمبر:74

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔