سوال

کہ نقلی ڈاڑھی استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟بعض لو گ نقلی ڈاڑھی لگا کر ڈارامو ں میں کام کرتے ہیں بعض اوقات ایسا کر دار بھی اداکرنا پڑتا ہے جس کی وجہ ڈاڑھی والوں کی تضحیک اور تحقیر ہوتی ہے اگر چہ بعض اوقات اس کے بر عکس بھی کر دار اداکر تے ہیں بحوالہ حکم ارشاد فر ما دیں ۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کی تحقیر وتضحیک کر نے والا کفر تک پہنچ جا تا ہے ۔

لمافی الشامية:(4/221،222،ایچ ایم سعید )
قلت: وقد حقق في المسايرة أنه لا بد في حقيقة الإيمان من عدم ما يدل على الاستخفاف من قول أو فعل ويأتي بيانه…….. ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي – صلى الله عليه وسلم – زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق
وفی الھندیہ: (6 /328 ،ر شیدیہ)
والحاصل انه اذااستخف بسنۃاوحدیث من احادیث علیہ السلام کفروتحت ھذاالاصل فروع کثیرۃذکرنا ھا فی الفتاوی
وکذافیہ : ( 2/263 ،رشیدیہ ) وکذا فی الفتای التاتا رخانية : (7 /306 ،فاروقيه )
وکذافی مجموعة رسائل ابن عابدین : (1 /326 ،محمودیہ ) وکذا فی حجةالله البالغة : (1 / 408 ،قدیمی )
وکذافیہ : (2 /410 ،قدیمی ) وکذا فی البحر الرائق: (5 /202،203 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الانھر : (2 /506،509 ،المنار ) وکذا فی الموسوعةالفقھية : (26 /،98 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ ولاساتذتہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
1-4-2019،1440-7-24
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:99

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔