الجواب حامداً ومصلیاً
مذکو رہ صو رت میں حاملہ ہو نے کی وجہ سے اس عورت کی عدت وضع حمل تھی ، اس لیے عدت میں ہو نے کی وجہ سے آپ کااس سے نکاح نہیں ہوا تھا ،لیکن دوسرے نکا ح کے بعد آپ کا اس کے سا تھ رہنا جا ئز ہے۔پہلے جو کچھ ہو ا وہ حرام اور گناہ تھا،دونو ں اس پر استغفارکریں ۔
لمافی الشامية:(5/192،رشیدیہ)
قوله: أو من زنا إلخ) ومثله ما لو كان الحمل في العدة ۔۔۔۔ وفي الحاوي الزاهدي: إذا حبلت المعتدة وولدت تنقضي به العدة سواء كان من المطلق، أو من زنا وعنه لا تنقضي به من زنا…. قال:واعلم أن المعتدة لو حملت في عدتها ذكر الكرخي أن عدتها وضع الحمل ولم يفصل، والذي ذكره محمد أن هذا في عدة الطلاق، أما في عدة الوفاة فلا تتغير بالحمل وهو الصحيح كذا في البدائع
وفی الفتاوی التا تا ر خانية: (4 /66 ، فا رو قیہ)
وفي الخانية :ولا یجوزنکاح منکو حۃالغیر ومعتدۃ الغیر عند الکل ، ولو تزوج بمنکو حۃ الغیروھو لا یعلم انھا منکو ح الغیر فوطئھا (تجب العدۃ ، وان کا ن یعلم انھا منکو حۃ الغیر فوطئھا )لا تجب العدۃ حتی لا یحرم علی الزوج وطو ھا.
وکذافی الھندية : (1 /280 ،رشیدیہ ) وکذا فی بدا ئع الصنائع : ( 3/302 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6613 ،رشیدیہ ) وکذا فی البحر الر ائق: (4 /239 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی : ( 2/76 ،الطارق )
واللہ اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14-4-2019،1440-8-8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:196