الجواب حامداً ومصلیاً
واضح چہرے والی تصویر اور بچوں کے ایسے کھلونے وغیرہ جن میں چہرے کے نقوش بالکل واضح ہوں، ان کی خرید و فروخت ناجائز ہے، اور تصویر والی اشیاء مثلا کپڑے اور برتن وغیرہ کی خرید و فروخت جائز ہے، لیکن ان کے استعمال کے لیے تصویر کو مٹانا ضروری ہے۔
لما فی فقہ البیوع: (1/319، معارف القرآن)
و یدخل فی ھذا القسم بیع الاصنام و الصور المجسدۃ، الا اذا قصرت ، و امکن الانتفاع برضاضھا، فیجوز بیعھا. و الاصل فیہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول عام الفتح و ھو بمکۃ: ان اللہ و رسولہ حرم بیع الخمر و المیتۃ و الخنزیر و الاصنام.
وفی زاد المعاد: (4/1260، علمیہ)
وأما تحريم بيع الأصنام، فيستفاد منه تحريم بيع كل آلة متخذة للشرك على أي وجه كانت، ومن أي نوع كانت صنما أو وثنا أو صليبا، وكذلك الكتب المشتملة على الشرك، وعبادة غير الله، فهذه كلها يجب إزالتها وإعدامها، وبيعها ذريعة إلى اقتنائها واتخاذها، فهو أولى بتحريم البيع من كل ما عداها، فإن مفسدة بيعها بحسب مفسدتها في نفسها.
وکذا فی الصحیح للبخاری: (1/296، قدیمی)
وکذا فی فتح الباری: (4/523، قدیمی)
وکذافی المسلم: (2/23، قدیمی)
وکذا فی الشامية: (4/214، دار احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقهية: (12/129، علوم اسلامیہ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440، 2019/5/28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:76