سوال

کیا خلع اور طلاق کی عدت میں کوئی فرق ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

لما فی البحر الرائق: (4 /120 ،رشیدیہ )
” قولہ:(الواقع بہ وبالطلاق علی مال طلاق بائن )ای بالخلع الشرعی ،اما الخلع فلقولہ علیہ الصلاۃ والسلام الخلع تطلیقۃبائنۃولانہ یحتمل الطلاق حتی صارمن الکنایات والوقع بالکنایۃ بائن.
وفی المبسوط : (6 /171 ،دار المعرفہ )
“(قال ) واذا اختلعت المرءۃ من زوجھا فالخلع جائز والخلع تطلیقۃ بائنۃ عندنا . “
وکذافی الھندیة : (1 /488 ،رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (3 /228 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (5 /93 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (5 /59 ،دار احیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/ 7007 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440ھ2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :84

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔