سوال

ایک شخص تنہا فرض پڑھ رہا تھا چار رکعت ادا کرنی تھیں کہ اس نے دو رکعت پر بھول کر ایک طرف سلام پھیرا تواس کو یاد آگیا ،اس نے فورا کھڑے ہو کر تیسری رکعت اور چوتھی رکعت ادا کی اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو اب کی نماز کا کیا حکم ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کی نماز درست ہے۔

لما فی بدائع الصنائع : (1 /402 ،رشیدیہ )
“ولو سلم مصلی الظھر علی رأس الرکعتین علی ظن انہ قد أتمھا ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھاویسجد للسھو .
وفی المبسوط : (1 /232 ،دارالمعرفہ )
واذا توھم مصلی الظھر انہ قدأتمھا فسلم ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھا ثم یسجد للسھو لان سلامہ کان سھوافلم یصر بہ خارجا من الصلاۃ
وکذا فی الصحیح لمسلم : ( 1/ 257 ،رحمانیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: ( 2/325 ،دار احیاء )
وکذا فی الشامیة : (2 /92 ،سعید )
وکذا فی البحر الرائق : (2 /196 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /199 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (1 /333 ،قدیمی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2 /1109 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :87

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔