الجواب حامداً ومصلیاً
نا محرم عورت کا جھوٹا اس لیے مکروہ ہے کہ اس سے پینے والے کے دل میں ناجائز خیالات ووساوس پیدا ہوتے ہیں اور لذت محسوس کرتا ہے ،لہذا اگر جھوٹے کا پتہ نہ ہو یاپتہ تو ہو لیکن ان خیالات و وساوس کا ڈرنہ ہو تو غیر محرم کا جھوٹا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
لما فی الھندیة:(1/23،رشیدیة)
و کراھۃ سؤر المرأۃللا جبنی کسؤر ہ لھالیس لعدم طھارتہ بل للا ستلذاذ
وفی الشامیہ:(1/424،رشیدیة)
نعم یکرہ سؤرھا الخ) ای :فی الشرب لا فی الطھارۃ( بحر) قال الرملی :ویجب تقییدہ بغیر الزوجۃ و المحارم… والذی یظھرأن العلۃ الاستلذاذ فقط ،و یفھم منہ أنہ حیث لا استلذاذ لا کراھۃ و لا سیما اذا کان یعافہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/424، رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق:(1/92،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی منحة الخالق علی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/121، رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:145