سوال

کیا مروجہ تسبیح کاکوئی ثبوت ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

گٹھلیوں اور کنکریوں پر ذکر کرنا حدیث سے ثابت ہے جب کہ مروجہ تسبیح     ان ہی  گٹھلیوں کی جدید شکل ہے،اس لیے تسبیح کے ذریعے ذکر کرنا جائز ہوگا۔

لما فی سنن ابی داؤد:(1/220،رحمانیة)
 عن عائشۃ بنت سعدبن أبی وقاص، عن أبیھا، أنہ دخل مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی امرأۃ وبین یدیہ نوی أو حصی تسبیح بہ، فقال: أخبرک بما ھو أیسر علیک من ھذا أو افضل، فقال:سبحان اللہ عدد ما خلق فی السماء،وسبحان اللہ عدد ما خلق فی الأرض، و سبحان اللہ عدد ما  خلق بین ذلک، وسبحان اللہ ما خالق، واللہ أکبر مثل ذلک، والحمدللہ   مثل ذلک، ولا الہ الا اللہ مثل ذلک،  ولا حول ولا قوۃ الا باللہ مثل  ذلک
وفی جامع  الترمذی:(2/194،فاروقیة)
حدثنا کنانۃ مولی صفیۃ، تقول: دخل علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و بین  یدیہ أربعۃ آلاف نواۃ أسبح بھا، قال لقد سبحت بھذہ، ألا أعلمک بأکثر مما سبحت بہ فقلت: بلی علمنی فقال:قولی سبحان اللہ عدد خلقہ . ھذا حدیث غریب
وکذافی المستدرک  علی الصحیحین:(2/104،قدیمی)
وکذا فی عون المعبود:(4/216،قدیمی)
 وکذافی المعجم الاوسط:(9/229،المعارف)
وکذا فی الترغیب  والترھیب:(2/286،رشیدیة)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/204،رحمانیة)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(5/138،التجاریة)
وکذا فی المعجم الکبیر:(10/185،بیروت)

واللہ الموفق بالصواب

بندہ محمد اعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

25/6/1445/8/01/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :69

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔