سوال

گردن کے مسح کی شرعی حثییت کیا ہے؟کیا گلے کا مسح کرنا چاہیے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

گردن کا مسح مستحب ہےاور گلے کامسح بدعت ہے۔

لما فی رد المحتار علی الدرالمختار:(1/268،رشیدیة)
مسح الرقبۃ) ھو الصحیح،وقیل: انہ سنۃ کما فی (البحر) وغیرہ قولہ (بظھر یدیہ) ای لعدم استعمال بلتھا(بحر فقول (المنیۃ): بماء جدید،لا حاجۃ الیہ کما فی  شرحھا الکبیر،وعبر فی (المنیۃ) بظھر الاصابع ولعلہ المراد ھنا قولہ:( لانہ بدعۃ اذ لم یرد  فی السنۃ )
وفی البحرالرائق:(1/56،رشیدیة)
قولہ (ومسح رقبۃ)یعنی بظھر الیدین لعدم استعمال بلتھا و قد اختلف فیہ،فقیل بدعۃ وقیل سنۃ وھو قول الفقیہ ابی جعفروبہ أخذ کثیر من العلماء کذافی شرح مسکین،وفی الخلاصۃ الصحیح انہ ادب وھو بعنی المستحب کما قدمناہ وأما مسح الحلقوم فبدعۃ،واستدل فی القدیر علی استحباب مسح الرقبۃ انہ علیہ السلام مسح ظاھر رقبتہ مع مسح الرأس فاندفع بہ قول من زعم انہ بدعۃ
وکذافی الھندیة:(1/8،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(1/10،بیروت)
 وکذافی الفتح القدیر:(1/36،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/177،بیروت)
 وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/405،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(1/226،فاروقیة)
وکذافی غنیة المستملی:(25،رشیدیة)
وکذا فی مراقی الفلاح:(73،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب

حررہ:محمداعظم عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

12/5/1445/27/11/202

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :192

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔