سوال

کیا والدین بیٹی کی رضامندی کے بغیر محض اپنے فیصلے سے بیٹی کا نکاح کروا سکتے ہیں؟اگر کروا سکتے ہیں تو پھربخاری اور نسائی کی ان روایات کی کیا توجیہ ہو گی جن میں ہے کہ ایک باپ نے بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے خلاف کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا نکاح فسخ کیے دیتے ہیں اور ایک روایت میں تو ہے کے فسخ کر دیا تھا۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کے لیے بالغہ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کروانا جائز نہیں ہے، اگر کروا دیا تو اس کی رضا پرموقوف ہو گا چاہے تو قبول کرے چاے رد کر دے۔بخاری شریف اور نسائی شریف کی روایات میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے، البتہ اگر نابالغہ ہے تو اس کا نکاح کروا سکتے ہیں۔

وفی الصحیح للبخاری :(2/277،رحمانیہ)
باب إذا زوج ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود. . . . . حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابني يزيد بن جارية، عن خنساء بنت خذام الأنصارية، أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحھا
وفی سنن النسائی:(2/504،رحمانیہ)
عن عبد الله بن بريدة، عن عائشة: أن فتاة دخلت عليها فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته وأنا كارهة، قالت: اجلسي حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته، ” فأرسل إلى أبيها فدعاه، فجعل الأمر إليها، فقالت: يا رسول الله، قد أجزت ما صنع أبي، ولكن أردت أن أعلم أللنساء من الأمر شيء
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/287،رشیدیہ)
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل
لما فی البحر الرائق:(3/194،رشیدیہ)
ولا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح ای لا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/335،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(2/505،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/62،الطارق) وکذافی الھدایة:(2/294،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/91،115،فاروقیہ) وکذافی الھندیة:(1/283،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(11/67،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر :23 فتوی نمبر:49

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔