سوال

ہماری ایک کمپنی ہے جو مختلف چیزیں تیار کر کے دیتی ہے ، ہمارا طریقہ یہ ہے کہ مثلا موٹر سائیکل کی قیمت (36000) کا 60 فیصد گاہک سے پیشگی وصول کرتے ہیں ، اور گاہک کو متعین تاریخ پر موٹر سائیکل دینے کا وعدہ کرتے ہیں ، ہم موٹر سائیکل کے پرزے (پارٹس ) چائنہ سے لا کر فٹنگ کر کے موٹر سائیکل تیار کر تے ہیں ، متعین تاریخ پر جب گاہک آئے گا تو ہم اسے کہتے ہیں کہ یہ تمہاری موٹر سائیکل ہے ۔ اب اس کو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو کل قیمت کا بقیہ 40 فیصد ادا کر کے اپنی موٹر سائیکل لے جائے ، اور اگر چاہے تو 40 فیصد ادا نہ کرے اور موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے ، ہم اسے تقریبا تین ہزار روپے نفع دیتے ہیں ۔ اگر وہ موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے تو اب پھر گاہک کو اختیار دیتے ہیں کہ چاہے اپنی ساری رقم (60 فیصد قیمت ، اور تین ہزار نفع) وصول کر کے معاملہ ختم کر دے ، او راگر چاہے تو صرف نفع لےکر 60 فیصد قیمت ہمارے ہاتھ چھوڑ دے ، اور آئندہ کے لئے پھر اسی طرح کا معاملہ جاری رکھے ۔ آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس طرح کا روبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہو گی ؟ جس پر آسانی سے عمل ہو سکے ۔ امید ہے تفصیل سے بیان فرمائیں گے۔

جواب

الجواب و باللہ التوفیق
سوال میں مذکور طریقے سے معاملہ کرنا درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جب کسٹمر بقیہ 40 فیصد رقم ادا کیے بغیر وہ چیزیعنی موٹر سائیکل وغیرہ دوبارہ کمپنی کو بیچتا ہے تو وہ چیز پر قبضہ کیےبغیر دوبارہ کمپنی کو بیچ دیتا ہے ، اور خود قبضے سے پہلے چیز کو بیچنا شرعا جائز نہیں ۔
اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کمپنی، خریدار کو موٹر سائیکل دیتے وقت بقیہ 40 فیصد رقم وصول کر لے اور موٹر سائیکل،خریدار کے مکمل قبضے اور تصرف میں دے دے ،یعنی موٹر سائیکل کی چابی اور کاغذات خریدار کے حوالے کر دے ۔ پھر کمپنی ، خریدار سے یہ موٹر سائیکل زیادہ قیمت پر واپس خرید لے ۔ مثلا موٹر سائیکل کی اصل قیمت مبلغ= /36000 ہے تو کمپنی ، خریدار کو تین ہزار نفع دے کر مبلغ =/39000 کا خرید لے ۔ اس صورت میں کمپنی کا موٹر سائیکل پر اور بیچنے والے کا قیمت پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔
پھر اگر نیا معاملہ کرنا چاہیں تو کسٹمر 60 فیصد رقم ایڈوانس جمع کروا دے اور متعین تاریخ پر مذکورہ بالا طریقے سے معاملہ کر لیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہر مرتبہ بتائے گئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے ، یعنی پہلے مرحلے میں خریدار ، موٹر سائیکل پر اور کمپنی ، رقم پر قبضہ کرے ۔ اور دوسرے مرحلے میں خریدار ، رقم پر اور کمپنی ، موٹر سائیکل پر قبضہ کرے ورنہ یہ معاملہ درست نہ ہو گا۔

لما فی الھدایة : (3/78 ، رحمانیہ )

“و من اشتری شیئا مما ینقل و یحول لم یجز لہ بیعہ حتی یقبضہ لانہ نہی عن بیع ما لم یقبض و لان فیہ غرر انفساخ العقد علی اعتبار الھلاک.”

و فیہ ایضا : ( 3/58 ، رحمانیہ )

“و من اشتری جاریۃ بالف درھم حالۃ او نسیئۃ فقبضہ ثم باعھا من البائع بخمس مائۃ قبل ان ینقد الثمن لا یجوز البیع الثانی ”

و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : ( 5/3463 ، رشیدیہ )

قال الحنفیۃ : لا یجوز التصرف فی المبیع المنقول قبل القبض ، لان النبی صلی اللہ علیہ و سلم نھی عن بیع ما لم یقبض و النھی یوجب فساد المنھی عنہ ولانہ بیع فیہ غرر الانفساخ بھلاک المعقود علیہ

و کذا فی البحر الرائق : ( 6/136،137 ،رشیدیہ )
و کذا فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 7/268 ، رشیدیہ )
و کذا فی فقہ البیوع : ( 1/550،551 ،معارف القرآن )
و کذا فی فتح القدیر : ( 6/397 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 4/427 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البرھانی : ( 9/381 ، دار احیاء تراث العربی )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :59

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔