الجواب باسم ملھم الصواب
اگر خرید و فروخت کی مذکورہ صورت منڈیوں میں رائج اور معروف ہے ، اور بیچنے والا اور خریدار دونوں اس طرح معاملہ پر متفق اور راضی ہوں ، اور اس میں کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو تو خرید و فروخت جائز ہے ۔ اور عشر کا تعلق چونکہ زمین سے حاصل شدہ پیداوار سے ہے اس لئے اگر وہ فصل بیچی جائے تو 20 مَن کا عشر ادا کیا جائے اور اگر گھریلو استعمال کے لئے رکھی جائے تو ساڑھے بیس مَن کا عشر اداکیا جائے ۔
لما فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/46 ،المکتبة العربیة )
“والحاصل ان استعمال الناس غیر المخالف للشرع و لنص الفقھاء یعد حجۃ .”
و فیہ ایضا :1/44،المکتبة العربیة
“العادۃ محکمۃ یعنی ان العادۃ عامۃ کانت او خاصۃ تجعل حکما لاثبات حکم شرعی .”
و کذا فی القرآن المجید:(سورة النساء،29)
و کذا فی سنن ابن ماجہ:( 275 ، رحمانیہ)
و کذا فی السنن الکبری :(6/160 ، دارالکتب )
و کذا فی اصول الافتاء و آدابہ :(262 ، معارف القران )
و کذا فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/106،المکتبة العربیة )
و کذا فی الھدایة:( 1/219 ، المیزان )
و کذا فی رد المحتار علی الدرالمختار:(3/317 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البر ھانی :(3/290 ، دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی البحر الرائق :(2/416 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 2/185 ، رشیدیہ )
و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :60