سوال

اگر جانور ذبح کرتے ہوئے جانور کی گردن کٹ کر الگ ہو جائے تو کیا وہ جانور حرام ہو جاتا ہے ؟

جواب

الجواب حامدا و مصلیا

ایسی صورت میں جانور حرام تو نہیں ہوتا ، البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے ۔

لما فی تبیین الحقائق:( 5/292 ، امدادی)
قال رحمہ اللّٰہ تعالی ( و کرہ النخع و قطع الرأس و الذبح من القفا ) …و کل ذلک مکروہ لان فی جمیع ذلک و فی قطع الرأس زیادۃ تعذیب الحیوان فلا فائدۃ … و تؤکل فی جمیع ذلک لأن الکراہیۃ لمعنی زائد و ھی زیادۃ الألم فلا توجب الحرمۃ
و فی رد الحتار مع تنویر الأبصار و الدر:( 9/495 ، رشیدیہ )
(و ) کرہ کل تعذیب بلا فائدۃ مثل ( قطع الرأس و السلخ قبل ان تبرد ) أی : تسکن عن الاضطراب و ھو تفسیر باللازم کما لا یخفی
وکذا فی الھدایة :(4/ 437 ، 438 ، رحمانیہ )
وکذا فی البحر الرائق :(8/ 311 ، رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر : (4 / 159، المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(5/177 ،الطارق )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة :(17/ 396 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : ( 4 / 2767 ، 2768 ، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة تنقیح الفتاوی الحامدیة : ( 2 / 366 ، قدیمی )
وکذا فی الھندیة :(5/ 288 ، الرشید )
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/ 189 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :58

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔