سوال

1) قربانی کے بڑے جانور میں اگر شرکاء کی تعداد سات سے کم ہو مثلا چھ شرکاء ہوں مگر چار حصے تو چار شرکاء کے ہوں اور تین حصے دو شرکاء میں نصف نصف ہوں تو اس صورت میں قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ 2) ایک شخص بڑے جانور میں اگر ایک اپنا قربانی کا حصہ رکھتا ہے اور اپنے مرحوم والد یا والدہ کی طرف سے نفلی قربانی کا حصہ بھی اسی بڑے جانور میں رکھتا ہے جب کہ انہوں ( والدین ) نے کوئی وصیت نہیں کی ، تو یہ والد کی طرف سے قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ اگر کوئی فقہی حوالہ بھی مل جائے تو مہربانی ہو گی ۔ ایک شخص جو قربانی کے نصاب کا مالک نہیں ہے ، لیکن اس کی موروثی زمین جو ( چند پشتوں سے ) ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی اور بیکار پڑی ہے ، یا ورثاء ( یا غیر ورثاء ) میں سے کوئی ایک اسے کاشت کر رہا ہے اور زمین میں سے جو حصہ اس کا بنے گا اس کی قیمت نصاب کو پہنچ جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کو زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز ایسی صورت میں اس پر قربانی ہو گی ہا نہیں ؟

جواب

الجواب حامدا و مصلیا

صورت مسئولہ میں قربانی ہو جائے گی ۔

1) لما فی بدائع الصنائع : (4/ 206 ، 207 ، رشیدیہ )۔
“لا یجوز بعیر واحد و لا بقرۃ واحدۃ عن أکثر من سبعۃ و یجوز ذلک عن سبعۃ أو أقل من ذلک ، و ھذا قول عامۃ العلماء .”
“و لا شک فی جواز بدنۃ أو بقرۃ عن أقل من سبعۃ بأن اشترک اثنان أو ثلاثۃ أو أربعۃ أو خمسۃ أو ستۃ فی بدنۃ أو بقرۃ لأنہ لما جاز السبع فالزیادۃ أولی ، و سواء اتفقت الأنصباء فی القدر أو اختلفت بأن یکون لأحدھم النصف و للآخر الثلث و لآخر السدس بعد أن لا ینقص عن السبع .”
2)وکذا فی الصحیح لمسلم:(1/491،رحمانیة)۔
3) وکذا فی الھدایة:(4/444،رحمانیة)۔
4) وکذا فی البحرالرائق:(8/319،325 ،رشیدیة)۔
5) وکذا فی الھندیة:(5/304،الرشید)۔
6) وکذا فی الفقہ الحنفی: (8/203،المکتبة الطارق)۔
7) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار : (9/525،رشیدیہ)۔
8) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/168،المنار) ۔
(2) صورت مسئولہ میں نفلی قربانی والد یا والدہ کی طرف سے ہو جائے گی ۔
1) لما فی رد المحتار علی الدر المختار:(6/326 ،ایچ ایم سعید)۔
“وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، ولهذا لو كان على الذابح واحدة سقطت عنه أضحيته كما في الأجناس.”
2) لما فی الفتاوی الخانیة علی الھندیة:(3/352، الرشید )۔
“اذا ضحی رجل عن ابویہ بغیر امر ھما و تصدق بہ جاز لان اللحم ملکہ و انما للمیت ثواب الذبح …”
3)وکذا فی المستدرک علی الصحیحین :(5/152،153،قدیمی)۔
4) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/173،المنار)۔
5) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/473،دار احیاء التراث العربی)۔
6) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:(9/540،رشیدیہ)۔
7) وکذا فی المبسوط :(12/12،دار المعرفة)۔
8) وکذا فی الفتاوی الولوالجیة :(3/73،الحرمین شریفین )۔
9) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (5/214،الطارق)۔
10) وکذا فی الفقہ الاسلامی : (4/2744،علوم اسلامیہ)۔
3) یہ زمین چونکہ اس شخص کی ملکیت میں نہیں آئی اس لئے اس زمین کی وجہ سے اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی ، اور اس کو زکاۃ بھی دی جا سکتی ہے ۔
(1) لما فی بدائع الصنائع : (2/ 88 ، رشیدیہ )۔
“و منھا : الملک المطلق و ھو أن یکون مملوکا لہ رقبۃ و یدا ، و ھو قول أصحابنا الثلاثۃ ، و قال زفر : الید لیست بشرط ، و ھو قول الشافعی ، فلا تجب الزکاۃ فی المال الضمار عندنا خلافا لھما .”
“و تفسیر مال الضمار : ھو کل مال غیر مقدور الانتفاع بہ مع قیام أصل الملک کالعبد الآبق ، و الضال ، …”
2) وکذا فی رد المحتار علی الدر المختار:(3/208،رشیدیہ)۔
3) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/455،دار احیاء التراث العربی)۔
4) وکذا فی البحرالرائق:(8/318 ،رشیدیة)۔
5) وکذا فی مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر:(4/167،المنار)۔
6) وکذا فی الفتاوی الولوالجیة :(3/82،الحرمین شریفین )۔
7) و کذا فی الفتاوی التاتارخانیة :(17/406،405،فاروقیہ)۔
8) وکذا فی الھندیة:(5/292،الرشید)۔
9) وکذا فی الھدایة:(4/443،444،445،رحمانیة)۔

و اللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
01/04/1440
09/12/2018
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :57

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔