سوال

ہمارے علاقے میں کپاس کی فیکٹریاں ہیں،وہ لوگ کہتے ہیں کہ کپاس فیکٹری میں پہنچا دو اور ایک ماہ کے بعد آنا جو ریٹ اس دن کپاس کا ہوا وہ آپ کو دے دیں گے۔کیا اس طرح کپاس کی بیع درست ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بیع کا یہ طریقہ نا جائز ہے،کپاس کی سپردگی کے دن ہی قیمت متعین کرنا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(9/358،دار إۛحیاء)
وفی (الأصل):إذا قال لغیرہ:أخذت ہذا منک بمثل ما یبیع الناس فہو فاسد.ولو قال بمثل من أخذ بہ فلان من الثمن فإن علما مقدار ذالک وقت البیع فالبیع جائز وإن لم یعلما فالعقد فاسد
وفی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
ولو قال بعت ھذا العبد بقیمتہ فالبیع فاسد لأنہ جعل ثمنہ قیمتہ وإنھا تختلف باختلاف تقویم المقومین فکان الثمن مجہولاً
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(13/7،دار المعرفة) وکذا فی فتح القدیر:(6/241،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(3/342،قدیمی) وکذا فی رد المحتار:(7/64،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/3444،رشیدیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/459،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(15/34،علوم إسلامیة) وکذا فی مجمع الأنھر:(3/12،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/04/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:136

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔