الجواب حامداًومصلیاً
صورت مسئولہ میں،شوہر بیوی کو بسانے پرعدالت میں اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے تو عدالت کے حکم سے نکاح ختم نہیں ہوا،شوہر کی موجودہ ضد تو اس بیان کی وجہ سے ہے جو بیوی نے جج کے سامنے دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی۔
بہر حال! یہ خاتون فی الحال آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش کی جائے ورنہ شوہر کو مجبور کر کےیاکچھ دے دلا کر طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر ایسا نہ ہو سکے تو دوبارہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے،اب عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ نافذ ہو گا۔
لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔ولانْ النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءة وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً بالتراضی بالخلع کالبیع
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(2/182،المنار )
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،قدیمی)
وکذا فی رد المحتار:( 5/90،رشیدیة)
وکذا فی النھرالفائق:(2/510،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/182،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/239،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/550،رشیدیة)
واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:135