سوال

مرد اور عورت کے کفن کی پیمائش کتنی ہونی چاہیے؟مفتیان عظام اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء کرام نے اصولی بات بیان کی ہےکہ ”اِزار “سر کے بالوں سے پاؤں تک ہو،”کُرتہ “گردن یا کندھوں سے پاؤں تک ہواور ”لِفافہ “سر اور پاؤں دونوں جانب سے کچھ زائد ہو،تا کہ دونوں جانب سے کفن کو باآسانی باندھا جا سکے اور عورت کے کفن میں ”دوپٹہ “اتنا بڑا ہو کہ جس سے سر اور چہرہ ڈھک جائے اور ”سینہ بند “سینہ سے لےکر رانوں تک ہو تو زیادہ اچھا ہے، ورنہ ناف تک بھی کافی ہے۔

لما فی البحر الرائق:(2/307 ،رشیدیہ)
والازار واللفافۃ من القرن الی القدم والقرن ھنا بمعنی الشعر واللفافۃ ھی الرداء طولاً(وبعد اسطرٍ) والقمیص من المنکب الی القدم بلا دخاریص۔۔۔۔۔وبلاجیب ولا کمین (وعلی الصفحۃ 310)واختلف فی عرض الخرقۃ فقیل ما بین الثدی الی السرّۃوقیل ما بین الثدی الی الرکبۃ کی لا ینتشر بالفخذین وقت المشی
وفی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ:(1/437 ،حقانیہ)
فکفن السنۃ للرجال والنساءقمیص وازارولفافۃ والقمیص من اصل العنق الی القدم والازار من قرن الراءس الی القدم ومثلہ اللفافۃ ویزاد المرءۃ علی ذالک
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/66 ،دار احیاء التراث) وکذا فی البنایہ ،شرح الھدایہ:(3/232 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/339 ،الطارق) وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(1/369 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الشامیہ:(3/112 ،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/60 ،دار المعرفہ) وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(1/160 ،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1500 ،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد نوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/02/1443/2021/09/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:20

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔