سوال

ایسے اسلامی ممالک جن کی عدالتوں میں غیر اسلامی قانون رائج ہے،ان عدالتوں کے ججوں کو شرعی قاضی کہا جا سکتا ہے؟اگر کوئی تفصیل ہے تو راہنمائی فرمائیں؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

انہیں شرعی قاضی نہیں کہا جا سکتا ،شرعی قاضی ہونے کیلئے مکمل شرعی قانون کا ہونا ضروری ہے لیکن ان کے جو فیصلے شریعت کے مطابق ہوں گے وہ نافذ ہوں گے۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(3/307،رشیدیة)
حتی لو قلد الجاہل وقضی ہذا الجاہل بفتوی غیرہ یجوز۔۔۔۔۔۔لکن مع ہذا لا ینبغی ان یقلد الجاہل با الاحکام وکذالک العدالۃ عندنا لیست بشرط فی جواز التقلید لکنہا شرط الکمال فیجوز تقلید الفاسق وتنفذ قضایاہ اذا لم یجاوز فیہا حد الشرع لکن لا ینبغی ان یقلد الفاسق
وفی الدر المختار مع التنویروالرد:(8/31،رشیدیة)
وشرط اہلیتہا شرط اہلیتہ) فانّ کلا منہما من باب الولایۃ۔۔۔۔۔۔۔(والفاسق اہلہا[الشہادۃ] فیکون اہلہ[القضاء]لکنہ لا یقلد) وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی(وفی رد المحتار تحت قول التنویر:(والفاسق اہلہا)۔۔۔۔۔۔۔وافصح بہذہ الجملۃ دفعا لتوہم من قال:انّ الفاسق لیس باہل القضاء فلا یصح قضاءہ فانّہ لا یؤمن علیہ لفسقہ وہو قول الثلاثۃ واختارہ الطحاوی قال العینی وینبغی ان یفتی بہ فی ہذا الزمان.
اقول[العلامۃ الشامی]:لو اعتبر ہذا لانسد باب القضاء خصوصا فی زماننا فلذا کان ما جری علیہ المصنف ہو الاصح کما فی الخلاصہ وہو اصح الاقاویل کما فی العمادیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ والوجہ تنفیذ قضاء کل من ولّاہ سلطان ذو شوکۃ وان کان جاہلاً فاسقاً وہو ظاہر المذہب عندنا وحینئذ فیحکم بفتوی غیرہ
وکذا فی تقریرات الرافعی علی الردوالدر:(8/32،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/131،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(12/145،دار احیاء) وکذا فی درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام:(4/585،العربیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(4/5،حرمین شریفین) وکذافی الفتاوی السراجیة:(474،زمزم)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/439،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الاسلامی:(8/6238،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:78

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔