سوال

ہمارے ہاں غلہ منڈی میں آڑھتیان بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لیتے ہیں کیا اس طرح دوطرفہ کمیشن لینا جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں جانب سے اجرت لینا جائز ہے بشرطیکہ اجرت واضح طور پر معین ہو۔

لما فی الدر المختار مع ردالمحتار: (7 /93،بیروت )
 واماالدلال فان باع العین بنفسہ باذن ربھا فاجرتہ علی البائع وان سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف
وفی الرد:(7 /93،بیروت )
 قولہ: ( یعتبرالعرف)فتجب الدلالۃ علی البائع اوالمشتری اوعلیھمابحسب العرف
وفی الفقہ الاسلامی وادلہ: (5 /3326 ،رشیدیة )
 بیع السمسرۃ: السمسرۃ: ھی الوساطۃ بین البائع والمشتری لاجراء البیع . والسمسرۃ جائزۃ والا جرالذی یاخذ ہ السمسار حلال،لانہ اجر علی عمل وجہد معقول
وکذافی التاتارخانیة: (15 /137  ،فاروقیة )
وکذا فی فتح الباری: (4 /569  ،قدیمی )
وکذافی  الھندیة: (4 /441  ،رشیدیة)
وکذافی قاضی خان: (ھندیة،2 / 327 ،رشیدیة )
وکذافی تکملة ردالمختار: (8 /310  ،ایچ،ایم،سعید )
وکذافی ردالمحتار: (9 /78  ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

18/05/1445/3/12/2023

 جلد نمبر :31 فتوی نمبر :34

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔