سوال

میں امریکہ سٹڈی ویزے پر جانا چاہتا ہوں وہاں پر رہنے کے لیے وہاں اکاؤنٹ کھلوا کر اس میں ایک بڑی رقم شوکرنا ضروری ہوتا ہے،مثلاً:30لاکھ روپے اس کی ایک صورت یہ ہے کہ بھیجنے والا ایجنٹ وہاں اکاؤنٹ کھلوا تا ہے اوراپنے پاس سے 30 لاکھ روپے اکاؤنٹ میں رکھوا دیتا ہے اور اس رقم پر میرا کوئی تصرُّف نہیں ہوتا میں اسے استعمال نہیں کر سکتا،یہ 30 لاکھ روپے اکاؤنٹ میں رکھنے کے ایجنٹ 3 سے 4لاکھ روپے لیتا ہے ۔مقررہ مدت کے بعد وہ اپنی رقم نکلوا لیتا ہے اور 4 لاکھ اضافی بھی لے لیتا ہے۔یہ معاملہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ 30 لاکھ روپے میں اپنی طرف سے اپنے اکاؤنٹ میں رکھوں لیکن اس کے لیے بھی ایجنٹ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے،وہ وہاں اکاؤنٹ کھلواتا ہے اور میرے لیے سہولیات کا بندوبست کرتا ہے پھر اس کےچارجز کم لیتا ہے ،مثلاً:4لاکھ کی جگہ ایک لاکھ روپے ۔یہ لینا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ  مسئولہ میں سٹیٹمنٹ شوکرنے کے لیے اکاؤنٹ میں رقم رکھنے پر جو اضافی رقم مثلاً: 3سے4 لاکھ وصول کی جاتی ہے یہ توبلا عوض زیادتی ہے جو کہ واضح طور پر سود ہے جو کہ ناجائز  اور حرام ہے۔

اس کی متبادل صورت یہ ہو سکتی  ہے کہ ایسے ایجنٹ کے ساتھ معاملہ کریں جو خدمات بھی مہیاکرے مثلاً:وہاں اکاؤنٹ  کھلوا نا  رہائش کے لیے ہاسٹل کا انتظام کرنا یونیورسٹی میں کاغذات وغیرہ جمع کروانا اور اس کے ساتھ یوں معاملہ طے کیا جائے کہ جو 30 لاکھ آپ میرے اکاؤنٹ میں رکھوائیں گے وہ تو میں آپ کو 30 لاکھ ہی واپس کروں گا لیکن دیگر خدمات کے عوض میں آپ کو 3 لاکھ روپے الگ سے دوں گا ،اس صورت میں اضافی رقم خدمات کے عوض  ہو گی سٹیٹمنٹ والی رقم پر کوئی زیادتی نہیں تو یہ صورت درست ہو گی۔             سوال کی دوسری صورت درست ہے کیونکہ اس صورت میں ایک لاکھ روپے خدمات کے عوض ہیں سٹیٹمنٹ کی رقم تو آپ نے خودرکھوائی ہے۔

لمافی القرآن الکریم: (بقرة   ،275 )
اَحَلَّ اللہُ البَیٗعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط
وفی ردالمحتار علی الدر: (07 /413  ،بیروت )
قولہ( کل قرض جر نفعاً حرام) اذاکان مشروطاًکما علم ممانقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ
وکذافی مجمع الزوائد: (04 /15  ،بیروت )         وکذافی کنز العمال: (06 /99  ،رحمانیة )
وکذافی البنایة: (07 /338  ،525رشیدیة )            وکذافی السنن الکبرٰی: (05 /573  ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

29/06/1445/12/1/2024

جلد نمبر :31 فتوی نمبر :99

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔