الجواب حامداً ومصلیاً
صورتِ مسئولہ میں سٹیٹمنٹ شوکرنے کے لیے اکاؤنٹ میں رقم رکھنے پر جو اضافی رقم مثلاً: 3سے4 لاکھ وصول کی جاتی ہے یہ توبلا عوض زیادتی ہے جو کہ واضح طور پر سود ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔
اس کی متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے ایجنٹ کے ساتھ معاملہ کریں جو خدمات بھی مہیاکرے مثلاً:وہاں اکاؤنٹ کھلوا نا رہائش کے لیے ہاسٹل کا انتظام کرنا یونیورسٹی میں کاغذات وغیرہ جمع کروانا اور اس کے ساتھ یوں معاملہ طے کیا جائے کہ جو 30 لاکھ آپ میرے اکاؤنٹ میں رکھوائیں گے وہ تو میں آپ کو 30 لاکھ ہی واپس کروں گا لیکن دیگر خدمات کے عوض میں آپ کو 3 لاکھ روپے الگ سے دوں گا ،اس صورت میں اضافی رقم خدمات کے عوض ہو گی سٹیٹمنٹ والی رقم پر کوئی زیادتی نہیں تو یہ صورت درست ہو گی۔ سوال کی دوسری صورت درست ہے کیونکہ اس صورت میں ایک لاکھ روپے خدمات کے عوض ہیں سٹیٹمنٹ کی رقم تو آپ نے خودرکھوائی ہے۔
لمافی القرآن الکریم: (بقرة ،275 )
اَحَلَّ اللہُ البَیٗعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰواط
وفی ردالمحتار علی الدر: (07 /413 ،بیروت )
قولہ( کل قرض جر نفعاً حرام) اذاکان مشروطاًکما علم ممانقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ
وکذافی مجمع الزوائد: (04 /15 ،بیروت ) وکذافی کنز العمال: (06 /99 ،رحمانیة )
وکذافی البنایة: (07 /338 ،525رشیدیة ) وکذافی السنن الکبرٰی: (05 /573 ،بیروت )
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1445/12/1/2024
جلد نمبر :31 فتوی نمبر :99