سوال

بچہ کے کان میں اذان کس وقت دینی چاہیے ؟(2)اور اذان دیتے وقت بچہ کا رخ کس طرف کرنا چاہیے ؟(3)اور کیا بچہ کا نام اس کے کان میں بتانا چاہیے ؟(4)اور کیا اذان دیتے وقت بچے کی چھوٹی انگلی کو پکڑنا چاہیے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

ولادت کےبعد جتنی جلدی ممکن ہو اذان دینی چاہیے ۔(2)اذان دینے والا جب قبلہ رخ کھڑا ہوکر بچہ کے دائیں کان میں اذان دے گا تو لازمی طور پر بچہ کا سر شمال کی جانب ،پاؤں جنوب کی جانب اور چہرہ آسمان کی جانب ہو گا ۔اور جب بائیں کان میں اقامت کہے گا تو بچہ کا سر جنوب کی جانب اورپاؤں شمال کی جانب ہوں گے ۔(3،4)ان کی کوئی اصل نہیں ۔

لما فی تقریرات الرافعی علی ھامش شامیۃ :(2/66،دارالمعرفۃ)
“قال الرافعی :قولہ :(حتی قالو ا فی الذی یؤذن للمولود ینبغی ان یحول )قال السندی:فیرفع المولود عند الولادۃ علی یدیہ مستقبل القبلۃ.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2750 ،رشیدیۃ)
“يستحب للوالد أن يؤذِّن في أذن المولود اليمنى، وتقام الصلاة في اليسرى حين يولد، لما روى أبو رافع أن النبي صلّى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن، حين ولدته فاطمة ، ولخبر ابن السني عن الحسن بن علي مرفوعاً: «من ولد له مولود فأذن في أذنه اليمنى، وأقام في اليسرى۔۔۔۔ أول ما يقرع سمعه عند قدومه إلى الدنيا، كما يلقن عند خروجه منها، ولما فيه من طرد الشيطان عنه، فإنه يدبر عند سماع الأذان.”
وکذافی تحفۃ الاحوذی :(5/91،قدیمی)
وکذافی جامع الترمذی:(1/410،رحمانیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری :(ٓ 2/336،رحمانیۃ)
وکذافی بذل الجہود :(13/50،قدیمی)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(2/373،علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری:(9/740،قدیمی)
وکذافی سنن ابی داود :(2 /44،رحمانیۃ)
وکذافی مجمع الزوائد :(4/65،دار الکتب )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:40

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔