الجواب حامداً ومصلیاً
شادی بیاہ کے موقع پر جوہدیہ،تحفہ اور نقدی دی جاتی ہے،اگراس میں محض تعاون اور ہدیہ کی نیت ہو،واپس لینے یا نام ونمود کا ارادہ نہ ہواور برادری کے رواج کا کوئی دباؤ بھی نہ ہواورلکھا بھی نہ جائے تو جائز ہے۔لیکن ہمارے ہاں نیوتہ کی جو رسم ہے وہ مندرجہ ذیل خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے
1
نیوتہ کو باقاعدہ لکھاجاتا ہےاور واپس کرنے کو ضروری سمجھا جاتا ہےلہذا یہ قرض کے حکم میں ہے،پھر برابر اور کم لوٹانے والے کو براسمجھا جاتا ہے،اس صورت میں دی جانے والی زائد رقم سود کے مشابہ ہے جو کہ ناجائز ہے۔
2
اکثر اوقات برادری کےدباؤ کی وجہ سے رضامندی کے بغیرنیوتہ دیا جاتا ہے اورکسی کامال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہے،ان خرابیوں کی بناء پر نیوتہ کا لین دین جائز نہیں ہے۔
سہرابندی پر دی جانے والی نقدی اور ہاروغیرہ بھی مذکورہ خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہیں۔
لما فی القرآن الکریم:(سورة الروم،39)
وَمَآاٰتَیتُم مِن رِّباًلِّیربُوَافِی اَموَالِ النَّاسِ فَلَایَربُواعِندَاللٰہج
وفی الردالمحتار: (8 /582 ،بیروت )
وفی الفتاوی الخیریۃ:سئل فیما یرسلہ الشخص الی غیرہ فی الاعراس ونحوھا ھل یکون حکمہ حکم القرض فیلزمہ الوفاء بہ أم لا؟اجاب:ان کان العرف بانھم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہ ان مثلیاً فبمثلہ،وان قیمیاً فبقیمتہ،وان کان العرف خلاف ذلک بان کانوا یدفعونہ علی وجہ الھبۃ ولاینظرون فی ذلک الی اعطاء البدل فحکمہ حکم الھبۃ فی سائراحکامہ فلارجوع فیہ بعد الھلاک اوالاستھلاک، والاصل فیہ ان المعروف عرفاً کالمشروط شرطاً اھ۔.قلت:والعرف فی بلادنا مشترک ،نعم فی بعض القری یعدونہ فرضاً حتی انھم فی کل ولیمۃ یحضرون الخطیب یکتب لھم ما یھدی ،فاذاجعل المھدی ولیمۃ یراجع المھدی الدفتر فیھدی الاول الی الثانی مثل ما اھدی الیہ
وفی مجمع الزوائد: (4 /219 ،بیروت )
عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لایحل مال امرء مسلم الّابطیب نفس منہ
وکذافی کنزالعمال: (5 /51،رحمانیة )
وکذا فی البحرالرائق: (6 /207 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (3 /201 ،رشیدیة )
وکذا فی المبسوط : (12 /109 ،بیروت )
وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /400 ،رشیدیة )
وکذا فی البنایة: (7 /338 ،رشیدیة )
وکذا فی الرد: (7 /413 ،بیروت )
وکذا فی مشکوة المصابیح: ( 1/ 261 ،رحمانیة )
واللہ اعلم بالصواب
ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/03/1445/2/10/2023
جلد نمبر :30 فتوی نمبر :92