سوال

اگرکسی کاوالدفوت ہواوراس کادادازندہ ہوتوکیاوہ والدکی میراث کامستحق ہوگا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!وارث ہوگا۔

لمافی القرآن:(النساء:11)
“وَلِأَبَوَیہ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْہما السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَان لہ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ یکن لہ وَلَدٌ وَوَرِثَہ أَبَوَاہ فَلِأُمِّہِ الثُّلُثُ.”
وفی السراجی فی المیراث:(14،شرکت علمیہ)
“أما العصبۃبنفسہ فكل ذكر لا تدخل فی نسبتہ إلى المیت أنثى، وہم أربعۃ أصناف: جزء المیت و أصلہ و جزء أبیہ و جزء جدہ الاقرب فالاقرب یرجحون بقرب الدرجۃاعنی اولیٰ ہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وإن سفلو، ثم أصلہ ای الاب ثم الجد.”
وکذا فی التنویر مع شرحہ:(6/774،سعید)
“ثم العصبات بانفسہم اربعۃاصناف: جزء المیت ثم أصلہ۔۔۔۔۔۔فیقدم جزءالمیت کالابن ثم ابنہ وان سفل ثم اصلہ الاب.”
وکذا فی البزازیۃ علیٰ ھامش الھندیۃ:(6/451،رشیدیہ)
وکذا فی المختصرالقدوری:(290،الخلیل)
وکذا فی الفتاویٰ السراجیہ:(580،زم،زم)
وکذا فی البحرالرائق:(9/367،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2/410،حقانیہ)
وکذا فی شریفیہ شرح سراجیہ:(38،قدیمی)
وکذا فی الھندیۃ:(6/451،رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،7جون2020,15

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔